اسلام آباد(ای پی آئی ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان کی وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے دوران سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی ہے.

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔

تین رکنی بینچ کے سامنے ملکی تاریخ کے اہم ترین مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان وزرات دفاع کی درخواست پر روسٹرم پر آئے .

قرآنی آیات کی تلاوت پر سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ مولا ہمیں ہمت دے کہ صیح فیصلے کریں،اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کرے جب ہم چلے جائیں تو ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ
معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے اپنا ایگزیکٹیو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں۔چیف جسٹس
نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وزارت خزانہ کی رپورٹ پڑھیں.

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت کو کہا گیا تھا سپلیمنٹری گرانٹ کے بعد منظوری لی جائے گی لیکن
اس کے برعکس معاملہ ہی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا، کیا الیکشن کیلئے ہی ایسا ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی.

جسٹس منیب ختر نے کہاکہ قائمہ کمیٹی میں حکومت کی اکثریت ہے، حکومت کو گرانٹ جاری کرنے سے کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونی چاہیے اورمالی معاملات میں تو حکومت کی اکثریت لازمی ہے، جسٹس منیب اخترنے مزید کہاکہ آئین حکومت کو اختیار دیتا ہے تو اسمبلی قرارداد کیسے پاس کرسکتی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہاکہ گرانٹ کی بعد میں منظوری لینا رسکی تھا،

جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایاکہ کیا حکومت کی بجٹ کے وقت اکثریت نہین ہونی تھی؟ جو بات اپ کر رہے ہیں وہ مشکوک لگ رہی ہے.کیا قرار داد کی منظوری کے وقت گرانٹ منظوری کے لیے پیش کی گئی ہے؟ جسٹس منیب کا کہنا تھاکہ وفاقی حکومت کی اسمبلی میں اکثریت لازمی ہے، حکومت کی گرانٹ اسمبلی سے کیسے مسترد ہو سکتی ہے.کیا آپ کو سپلیمنٹری بجٹ مسترد ہونے کے نتائج کا علم ہے ؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ اس سوال کا جواب دیں پھر آگے چلیں گے،

اٹارنی جنرل نے کہاکہ گرانٹ منظوری کا اصل اختیار پارلیمنٹ کو ہے، اسمبلی پہلے قرارداد کے ذریعے اپنی رائے دے چکی تھی.

جسٹس منیب نے سوال اٹھایا کہ حکومت سنجیدہ ہوتی تو کیا سپلیمنٹری گرانٹ منظور نہیں کروا سکتی تھی؟
وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونا لازمی ہے، اٹارنی جنرل صاحب سمجنے کی کوشش کریں معاملہ بہت سنجیدہ ہے،

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ آپ ہمارا نقطہ نظر سمجھ چکے ہیں،انتظامی امور قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کی کوئی مثال نہیں ملتی، توقع ہے حکومت اپنے فیصلے رہ نظر ثانی کرے گی، چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت فیصلہ کرے یا اسمبلی کو واپس بھجوائے جواب دے، اس معاملہ کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں لیک فی الحال غیر معمولی نتائج پر نہیں جانا چاہتے، حکومت کو عدالتی احکامات پہنچا دیں.

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ انتخابی اخراجات ضروری نوعیت کے ہیں غیر اہم نہیں،حکومت کا گرانٹ مسترد ہونے کا خدشہ اسمبلی کے وجود کے خلاف ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے اکتوبر تک الیکشن نہیں ہوسکتے، چیف جسٹس نے کہاکہ
الیکشن کمیشن نے ایک ساتھ الیکشن کرانے کا۔بھی کہا ہے،الیکشن کمیشن کی اس بات پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں، الیکشن کمیشن کی آبزرویشن کی بنیاد سیکیورٹی کی عدم فراہمی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ دہشتگردی ملک میں 1992 سے جاری ہے،لیکن ملکی تاریخ میں 1987، 1991، 2002، 2008، 2013 اور 2018 میں الیکشن ہوئے، سیکیورٹی کے مسائل ان انتخابات میں بھی تھے، چیف جسٹس نے کہاکہ سال 2008 میں تو حالات بہت کشیدہ تھے ، 2007 میں بھی تو بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تھی، 2013 میں بھی دہشت گردی تھی، اب ایسا کیا منفرد خطرہ ہے جو الیکشن۔ نہیں ہو سکتے.

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پہلے ایک ساتھ تمام سکیورٹی فورسز نے فرائض سر انجام دئیے تھے، اب دو صوبوں میں الیکشن الگ ہوں گے.

چہیف جسٹس نے کہاکہ کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو حالات ٹھیک ہو جائیں گے، وزارت دفاع نے بھی اندازہ ہی لگایا ہے،
حکومت اندازوں پر نہیں چل سکتی،

اٹارنی جنرل نے کہاکہ آپریشنز میں متعین کردہ ٹارگٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش ہے، کسی کو توقع نہیں تھی کہ اسمبلیاں پہلے تحلیل ہو جائیں گی.

جسٹس منیب اختر نے کہاکہ گزشتہ سال ایک حکومت کا خاتمہ ہوا تھا،عدالت نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی تھی،
صوبائی اسمبلیوں کے ہوتے ہوئے قومی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہو ہونے ہی تھے، جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کا وقت مقرر ہے،

جسٹس اعجازالان نے کہاکہ برطانیہ میں جنگ کے دوران بروقت انتخابات ہوئے تھے، بم دھماکوں کے دوران بھی برطانیہ میں انتخابات ہوتے تھے، عدالت کو کہاں اختیار ہے کہ الیکشن اگلے سال کروانے کا کہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سیکیورٹی فورسز کا کام بیرونی خطرات سے نمٹنا ہے، سال 2001 سے سیکیورٹی ادارے بارڈرز پر مصروف ہیں،

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے پر انتخابات کرانے کا کہا تھا، فنڈز کے حوالے سے عدالتی حکم ایک سے دوسرے ادارے کو بھیجا جا رہا ہے.کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو الیکشن ہوجائیں گے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو پیغام اپ دینا چاہ رہے ہیں وہ سمجھ گیا ہوں، فوج نے انتخابات کے مقررہ وقت کے مطابق آپریشنز شروع کیے تھے، اٹارنی جنرل کے اس جواب پر جسٹس منیب اختر نے کہاکہ کیا آرٹیکل 245 کے تحت فوج سول حکومت کی مدد کو اتی ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں،
جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ کیا 2018 کے انتخابات میں بنیادی حقوق معطل تھے؟ وفاقی حکومت آرٹیکل 245 کا اختیار کیوں استعمال نہیں کر رہی؟ کیا آئین بالادست نہیں ہے ، جسٹس منیب اختر نے کہاکہ افواج نے ملک کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں،افواج پاکستان کا تو سب کو شکر گزار ہونا چاہیئے ،

چیف جسٹس نے کہاکہ 27 مارچ کو عدالتی کارروائی شروع ہوئی 4 اپریل کو فیصلہ آیا، پہلے 4/3 کا معاملہ تھا پھر فل کورٹ کا، بائیکاٹ ہوا لیکن کسی نے سکیورٹی کا مسئلہ نہیں اٹھایا،

اٹارنی جنرل نے کہاکہ میری درخواست پر ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بریفنگ دی اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکرٹری دفاع بھی موجود تھے، ملاقات میں افسران کو بتایا تھا دوران سماعت یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا،سب کو بتایا کہ فیصلہ ہو چکا ہے اب پیچھے نہیں ہٹ سکتے ،

چیف جسٹس نے کہاکہ الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی درخواستیں فیصلے واپس لینے کی بنیاد نہیں،الیکشن کمیشن نے پہلے کہا وسائل دیں الیکشن کروالیں گے، اب کہتے ہیں ملک میں انارکی پھیل جائے گی،الیکشن کمیشن پورا مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہتا ہے، وزارت دفاع کی رپورٹ میں عجیب سی استدعا ہے، کیا وزارت دفاع ایک ساتھ الیکشن کروانے کی استدعا کرسکتی ہے؟ چیف جسٹس نے واضح کردیا کہ وزارت دفاع کی درخواست ناقابل سماعت ہے، ٹی وی پر سنا ہے وزراء کہتے ہیں اکتوبر میں بھی الیکشن مشکل ہے.

اٹارنے جنرل نے کہاکہ معاملات سلجھ گئے تو شاید اتنی سیکیورٹی کی ضرورت نہ پڑے، تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات پر آمادہ ہورہی ہیں، امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی شہباز شریف اور عمران خان سے ملے،عدالت کچھ مہلت دے تو معاملہ سلجھ سکتا ہے ،

اٹارنی جنرل کے اس موقف پر چئیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل کی بات میں وزن ہے، منجمد سیاسی نظام چلنا شروع ہو رہا ہے ، 14 مئی قریب آ چکا ہے، سیاسی جماعتیں ایک مؤقف پر آ جائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے،

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ کل بلاول اور آج وزیراعظم سے ملے تھے کوشش ہے ملک میں سیاسی ڈائیلاگ شروع ہو،
ایک کے علاوہ تمام حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بلاول آج مولانا فضل الرحمان سے مل کر مذاکرات پر قائل کریں گے،

چیف جسٹس نے کہاکہ 14 مئی قریب آ چکا ہے، سیاسی جماعتیں ایک موقف پر آ جائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے، نوے دن کا وقت 14 اپریل کو گزر چکا ہے۔ آئین کے مطابق نوے دن میں انتحابات کرانے لازم ہیں اپ کے مطابق یہ سیاسی انصاف کا معاملہ ہے۔ جس میں فیصلے عوام کرے گی۔آپکی تجویز ہے کہ سیاسی جماعتیں مذاکرات کریں۔ عدالت نے یقین دہانی کرانے کا کہا تو حکومت نے جواب نہیں دیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت نے آج پہلی بار مثبت بات کی۔ عدالت ایک دن انتحابات کرانے کی درخواستوں پر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کردیتی ہے.سیاسی جماعتوں کو کل کے لیے نوٹس جاری کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ نگران حکومت نوے دن سے زیادہ برقرار رہنے پر بھی سوال اٹھتا ہے لیکن اس معاملے کو زیادہ طویل نہیں کیا جا سکتا، 5 دن عید کی چھٹیاں آ گئی ہیں، میرے ساتھی ججز کہتے ہیں 5 دن کا وقت بہت ہے،

ایک اور درخواست گزار سردار کاشف خان کے وکیل شاہ خاور نے موقف اپنایا کہ عدالتی فیصلہ کبھی ایک وجہ سے نافذ نہیں ہو سکا کبھی دوسری وجہ سے، عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد ضروری ہے،لوگ کنفیوز اور ٹینشن میں ہیں، عوام کو ہیجانی کیفیت سے نکالنے کے لیے درخواست دائر کی ہے، ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہییں، وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ انتخابات الگ الگ ہوئے تو کئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، صوبوں میں منتخب حکومتیں الیکشن پر اثرانداز ہوں گی.

اس دورن چیف جسٹس نے کہاکہ جب بحث ہورہی تھی تو اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ کیوں نہیں اٹھایا؟ اٹارنی جنرل کو نہ جانے کس نے 4/3 پر ذور دینے کا کہا اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے کس نے ان کو یہ مؤقف اپنانے سے روکا،
شاہ خاور نے کہاکہ سیاسی جماعتیں ابھی بھی متفق ہوجائیں تو آئیڈیل حالات ہوں گے،

چیف جسٹس نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی بات ہے تو 8 اکتوبر پر ضد نہیں کی جاسکتی، یکطرفہ کچھ نہیں ہوسکتا، سیاسی جماعتوں کو دل بڑا کرنا ہوگا،
اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت سیاسی جماعتوں کو مہلت دے ،اس دوران عدالت نے فیصل چوہدری کو روسٹرم پر بلا لیا اور استفسار کیاکہ کیا پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ ہے؟ فیصلہ چوہدری نے جواب دیا کہ سراج الحق زمان پارک آئے اگلے دن ہمارا سندھ کا صدر گرفتار ہو گیا،

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تاریخ پر جماعتیں مطمئن ہوئیں تو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گا، قوم کی تکلیف اور اضطراب کا عالم دیکھیں ،
فیصل چوہدری نے کہاکہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے آپ سے بہت امید ہے،

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ پارٹی قیادت سے ہدایات لیکر عدالت کو آگاہ کریں، ممکن ہے عدالت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو طلب کرے،

ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے کہاکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی مے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، وزیر داخلہ ہر گھنٹے بعد عدالت کو دھمکیاں دیتا ہے، وزیر داخلہ کہتا ہے جو مرضی کر لے 14 مئی کو الیکشن نہیں ہوں گے،

چیف جسٹس نے کہاکہ سیاسی اتفاق رائے ہوا تو 14 مئی کا فیصلہ نافذ کرائیں گے، کیا آپ سڑکوں پر تصادم چاہتے ہیں؟
سیاسی عمل اگے نہ بڑھا تو الیکشن میں تصادم ہوسکتا ہے،
جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ دونوں فریقین کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے،

چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو ابھی طلب کرنا درست ہو گا؟ تو اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تمام سیاسی قائدین اسلام آباد میں نہیں ہیں،
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ کچھ سربراہان نے غیر سنجیدہ گفتگو کی تھی ، آپ نے آج سنجیدہ موقف اپنایاسیاسی جماعتوں کے نامزد رہنماؤں کو طلب کریں گے، مذاکرات کا عمل جلد مکمل نہ ہوا تو عدالتی حکم پر عمل کروائیں گے،
بعدازاں عدالت نے کہاکہ سیاسی جماعتیں اپنے نمائندے مقرر کر کے کارروائی کا حصہ بنیں.

عدالت عظمی نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو نوٹسز جاری کردیئے اور قراردیا کہ
سیاسی جماعتوں کی جانب سے سینٸر لیڈر شپ عدالت میں پیش ہو.

وزارت دفاع کی درخواست

پاکستان کی وزارت دفاع نے ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

یاد رہے کے منگل کو سپریم کورٹ میں جمع سربمہر رپورٹ کے ساتھ دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ملک میں جاری سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ 4 اپریل کا فیصلہ واپس لے جس میں 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا گیا تھا.عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سندھ اور بلوچستان اسمبلی کی مدت مکمل ہونے پر مکمل بھر میں ایک ساتھ انتخابات کا حکم دے۔وزارت دفاع نے عدالت عظمٰی کی جانب سے پنجاب میں الیکشن کے لیے سکیورٹی مہیا کرنے کے حکم کے حوالے سربمہر رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔

قبل ازیں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔
منگل کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’8 اکتوبر سے پہلے انتخابات ہوئے تو ملک میں انارکی اور افراتفری پھیلنے کا خدشہ ہے۔‘رپورٹ کے مطابق ’الیکشن کمیشن یہ ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔‘’الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صرف الیکشن کا انعقاد نہیں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔‘

الیکشن کمیشن کی تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ضروری ہے کہ ووٹرز کسی ڈر اور خوف کے بغیر آزادانہ طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔‘
رپورٹ کے مطابق ’8 اکتوبر کو انتخابات کا انعقاد زمینی حقائق کی روشنی میں کیا گیا۔‘الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ’فنڈز اور امن و امان کے لیے فورس کی عدم فراہمی سے 14 مئی کو انتخابات ناممکن ہوتے جا رہے ہیں۔‘

’پنجاب میں سکیورٹی کے لیے 4 لاکھ 66 ہزار اہلکار درکار ہیں، جبکہ پنجاب کی نگراں حکومت صرف 81 ہزار اہلکار فراہم کر رہی ہے اور 3 لاکھ 85 ہزار اہلکاروں کی کمی ہے۔‘رپورٹ کے مطابق ’فوج، ایف سی اور رینجرز فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو خط لکھا جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔‘

’بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لیے رقم کی ادائیگی کی آج (بروز منگل) آخری تاریخ تھی، بروقت چھپائی نہ ہوئی تو ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔‘الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’تصویروں والی انتخابی فہرستوں کی چھپائی پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے۔