اسلام آباد (ای پی آئی )پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے عمران خان کی رہائی پر عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری عدلیہ کہاں کھڑی ہے اور کس طرح وہ آئین و قانون سے ماورا فیصلے دے رہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ کہا گیا ہے کہ عمران خان کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی مقدمے کا علم نہ ہو تو اس میں بھی گرفتار نا کیا جائے۔

پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ کیا یہ رعایت تین بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے میں نواز شریف کو دی گئی، جب ان کو اطلاع ملی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں چلی گئیں تو انہوں نے درخواست کی کہ اہلیہ کئی خیریت پوچھنے دیں لیکن ان کو ٹیلی فون تک فراہم نہیں کیا گیا اور جب وہ واپس اپنے سیل میں گئے تو تین گھنٹوں بعد انہیں بتایا گیا کہ ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا اس قسم کی رعایت مریم نواز اور فریال تالپور کو دی گئی، آج جس طرح عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول فراہم کیا جا رہا ہے، پورے ملک میں غنڈہ گردی، دہشت گردی ہو رہی ہے اور عدالت اس دہشت گردی کو تحفظ دے رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آرمی چیف اور کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہو رہا ہے، سرزمین وطن کے لیے قربانی دینے والوں کی یادگاروں کو اکھیڑا جا رہا ہے، ریاست کے محافظ اداروں کی جس طرح توہین اور تذلیل کی جا رہی ہے، عدالت ان کے تحفظ کے لیے ہے۔پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پی ڈی ایم قیادت کی نمائندگی کرتے ہوئے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پوری قوم پیر15 مئی کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے، سپریم کورٹ کے سامنے بہت بڑا دھرنا دیا جائے گا، زبردست احتجاج کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ ’مدر آف لا‘ ہے ’مدر ان لا‘ نہیں، آسمان سے اترے ہوئے نہیں، ہماری طرح کے انسان ہیں، آئین کے اس قدر ماورا آجائیں گے کہ وہ پارلیمان کو بھی سپریم نہیں سمجھیں گے، آسان طریقہ یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے کو نااہل قرار دو۔پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب، سن لو ہم 3 دو کا فیصلہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہمارے نزدیک 4 تین کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہے۔