لاہو ر( ای پی آئی) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی 9مئی کوگرفتاری کے بعد لاہور میں جناح ہائوس پر شر پسندوں کے حملے کی ہوشربا اہم تفصیلات سامنے آگئیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف وسطی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر قائدین کا نام بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق دوپہر2 بجکر 35 منٹ سے لے کر 2 بجکر 40 منٹ تک پرتشدد مظاہرین زمان پارک لاہور میں اکٹھے ہونا شروع ہوئے، 2بجکر 55 منٹ سے3 بجکر 25منٹ کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر قائدین لبرٹی چوک پہنچے۔ سہہ پہر4 بجکر 5 منٹ پر مشتعل ہجوم نے کینٹ کا رخ کیا اور4 بجکر 5 منٹ پر پہلے سے شرپسندوں کا ایک ٹولہ شیرپا برج پر پہنچا ہوا تھا۔

شام5 بجکر 15 منٹ پر پہلا دھاوا جناح ہائوس پر بولا گیا جو 25سے 30افراد پر مشتمل تھا لیکن اسے واپس دھکیل دیا گیا، 5 بجکر 27 منٹ پر شرپسندوں نے جناح ہائوس پر بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ دوبارہ انٹری کی اور5 بجکر 30 منٹ سے 6بجے تک ان شرپسندوں نے بھرپور انداز میں جناح ہائوس میں شدید توڑ پھوڑ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا۔

اس کے بعد6 بجکر 7 منٹ پر جناح ہائوس کو مکمل جلا دیا گیا۔ شام6 بجکر 10 منٹ پر فورٹریس سے شرپسندوں کی مزید کمک جناح ہائوس پہنچ گئی جنہوں نے تباہ کاریوں میں اپنا کردار ادا کیا،6 بجکر 13 منٹ پر مزید ایک اور جتھہ دھرم پورہ سے جناح ہائوس پہنچ گیا۔ شام6 بجکر 30 منٹ سے رات 7بجکر55 منٹ تک تقریباً 2ہزار لوگوں نے اجتماعی طور پر جناح ہائوس کو مکمل تباہ کر دیا اور تباہی کا یہ سلسلہ رات 8 بجے تک جاری رہا۔

اس کے ساتھ ساتھ شرپسندوں نے ملٹری انجینئرنگ سروسز کے دفتر پر بھی حملہ کر کے تباہی مچائی۔ اس کے علاوہ ملک کے باقی علاقوں میں تقریباً 200 سے زائد جگہوں پر دو سے تین گھنٹے کے وقت میں ان شر پسندوں نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جو سارے پاکستان نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

ان ہوشربا انکشافات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جناح ہائوس پر پوری منصوبہ بندی اور کوارڈینیشن کے ساتھ منظم طریقے سے حملہ کیا گیا تھا جس میں چند شر پسند رہنمائوں کی براہ راست شرکت اور رہنمائی شامل تھی۔