پشاور،اسلام آباد(ای پی آئی ) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں کارکنان کی جانب سے آرمی تنصیبات کا جلائو گھیرائو اور پاک فوج کے خلاف نعرے بازی ،شہدا کی توہین کے بعد تحریک انصاف کے کئی سینئر رہنما ئوں نے پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تحریک انصاف اور پارٹی چیئرمین عمران خان سے راہیں جدا کر لی ہیں۔
اس سلسلہ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔انہوں نے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ یہ فیصلہ کسی کے دبا ئومیں نہیں کر رہا۔
9مئی کے واقعات کے بعد پارٹی سے منسلک رہنا وطن سے بے وفائی سمجھتا ہوں، یہ میرا وطن ہے اور میری فوج ہے، ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔نو مئی کے واقعات کے بعد پارٹی سے منسلک رہنا اپنی توہین سمجھتا ہوں۔ اسی طرح ذرائع کے مطابق سابق مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی رہنما اجمل وزیر نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ سینٹرل پنجاب سے بھی پی ٹی آئی رہنمائوں کا پارٹی کو چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔
سید ذوالفقار علی شاہ جو کہ پاکستان تحریک انصاف چنیوٹ کے ضلعی صدر اورو سابق ٹکٹ ہولڈر این اے94 ہیں نے بھی پاکستان تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیا ہے۔اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید ذوالفقارعلی شاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے 9 مئی کو ہونے والے جلا ئوگھیرائو کے باعث تحریک انصاف سے اپنی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی یادگاریںجلائی گئیں، مرے ہوئوں کی بیحرمتی کرنے کی توہمارا مذہب بھی اجازت نہیں دیتا۔لوگوں کے اندر اتنی نفرت پیدا کی گئی کہ کسی کو اب سمجھ ہی نہیںہے اورلوگ اب بے لگام ہو چکے ہیں، کوئی عقل اورشعوراستعمال کرنے کو تیار نہیں۔
سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر آپ اپنے لوگوں کو کنٹرول نہیںکرسکتے، اپنے لوگوں کو صحیح راستے پر چلانہیں سکتے ، ان کی تربیت نہیں کرسکتے توآپ کوکوئی حق نہیں ہے کہ آپ ان لوگوںکی رہنمائی کریں۔میں ملک اورقوم کے لئے ہر قسم کی قیمت دینے کے لئے تیار ہوں لیکن میں اینٹی اسٹیٹ نہیں ہوں، میرے خون میں ہی نہیں ہے کہ میں اینٹی اسٹیٹ ہو جائوں۔میں اپنے پارٹی عہد سے بھی مستعفی ہونے کااعلان کرتا ہوں ، پارٹی رکنیت بھی چھوڑنے کااعلان کرتا ہوںاوراس قسم کی سیاسی سرگرمی کاحصہ نہیں بن سکتا۔


