اسلام آباد(ای پی آئی)نیشنل کرائم ایجنسی کے 190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب)کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو باضابطہ شاملِ تفتیش کر لیا۔

منگل کو عمران خان نیب کے راولپنڈی کے سامنے پیش ہوئے،عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نیب راولپنڈی آفس کے باہر گاڑی میں موجود رہیں۔ذرائع کے مطابق عمران خان سے کیس سے متعلق 20 سوالات کے جواب طلب کر لیے گئے ہیں،

ذرآئع نے بتایا ہے کہ نیب نے عمران خان سے برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ خط و کتابت کے ریکارڈ سے متعلق سوالات کیے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ نیب نے عمران خان سے 19 کروڑ پاونڈز کے فریزنگ آرڈرز کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔نیب کے سوالنامے میں پوچھا گیا کہ دسمبر 2019 میں برطانیہ سے غیرقانونی رقم کی واپسی کی منظوری کے لیے سمری کیوں تیار کروائی ؟ دسمبر 2019 میں برطانیہ سے غیرقانونی رقم کی واپسی کو سرنڈر کرنے کی منظوری کیوں دی ؟ ملزمان سے بدلے میں القادر یونیورسٹی کی زمین اور دیگر مالی فائدے کیوں لیے ؟

سوالنامے میں مزید پوچھا گیا کہ اعلی ترین عوامی عہدے پر بیٹھ کر اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟ اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ملزمان سے مالی فائدے کیوں حاصل کیے ؟ برطانیہ سے غیر قانونی رقم ملزمان کو واپس کرکے مجرمانہ عمل کیوں کیا؟ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی سے خط و کتابت کو خفیہ کیوں رکھا گیا؟ ایسٹ ریکوری یونٹ کی سمری کو خفیہ کیوں رکھا گیا؟

عمران خان کی نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیشی کے موقع پر وہاں سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ رینجرز کی مزید نفری بھی تعینات تھی،راولپنڈی کے علاقے میلوڈی میں واقع نیب کے دفتر سے ملحقہ راستوں کو پولیس نے سِیل کر دیا گیا،خار دار تار اور بلاکس لگا کر میلوڈی سے لال مسجد تک مرکزی شاہراہ، ملحقہ گلیاں اور سڑکیں بھی سِیل کر دی گئیں۔پولیس، رینجرز، ایف سی، ایلیٹ فورس اور لیڈیز پولیس نیب راولپنڈی کے دفتر کے باہر تعینات کی گئی۔نیب دفتر کے مرکزی دروازے پر رینجرز کے اہلکار تعینات رہے،سیکیورٹی کے پیشِ نظر غیر متعلقہ افراد کا نیب دفتر کے اطراف داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیاتھا،نیب دفتر کے باہر بکتر بند اور قیدیوں کی وین بھی پہنچا ئی گئی تھیں ۔اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد انجم خود بھی نیب راولپنڈی آفس پہنچے ۔عمران خان نے پیشی کے موقع اپنی ممکنہ گرفتاری کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا لیکن انہیں گرفتار نہ کیا گیا ،

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف کیسز میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کی سربراہی میں 7 رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔چیئرمین نیب کی منظوری سے پراسیکیوٹر جنرل نیب سید اصغر حیدر نے اس 7 رکنی ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس اور نیشنل کرائم ایجنسی کے 190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں۔