لاہور/اسلام آباد ( ای پی آئی)تحریک انصاف کے چیئرمین کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ملک بھر میں توڑ پھوڑ اور جلائو گھیرائو کے شرمناک واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں اور کارکنان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی اور عمران خان کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والے بھی بڑی بڑی پریس کانفرنسوں میں عمران خان اور پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر جا رہے ہیں اس سلسلہ میں آج کا سب سے بڑا اعلان شیریں مزاری اور فیاض الحسن چوہان کی جانب سے پارٹی کو خیبر باد کہنے کا سامنے آیا جبکہ سابق اراکین اسمبلی جلیل احمد شرقپوری ، عبد الرزاق نیازی ،مخدوم افتخار الحسن گیلانی نے بھی پارٹی کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا .

اس کے علاوہ مسرت جمشید چیمہ اور پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی جانب سے بھی پارٹی چھوڑنے کی خبریں سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں تاہم اس حوالے سے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کی وجہ سے کوئی بیان سامنے نہیں آسکا ہے اس کے علاوہ مسرت جمشید چیمہ اور جمشید چیمہ کے وکیل کی جانب پارٹی چھوڑنے کا بیان سامنے آیا ہے ۔

اس حوالے سے تحریک انصاف کی سینئر رہنما شیریں مزاری نے پارٹی کے ساتھ سیاست بھی چھوڑنےکا اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کی سب کو مذمت کرنی چاہیے، میں بھی 9 اور 10 مئی کو ہونے والے واقعات کی مذمت کرتی ہوں۔ جس کا انہوں نے حلف نامہ بھی جمع کروایا ہے۔ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے، مجھے اور میری بیٹی کو اس حوالے سے شدید رنج ہے۔

شیریں مزاری نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 5 ماہ قبل میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا، اور میں بھی سیاست میں مصروف تھی، جس وجہ سے میری بیٹی کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا، اب فیصلہ کیا ہے کہ میں سیاست ہی چھوڑ دوں گی اور اپنا وقت اپنے گھر پر دوں گی۔ شریں مزاری کا کہنا تھا کہ مجھے اور میری بچی ایمان کو جس آزمائش سے گزرنا پڑا تو یہ دیکھتے ہوئے میں نے سیاست چھوڑ رہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں اب پاکستان تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہوں ۔اب ان کی صحت، انکے بچے اور والدہ ان کی ترجیح ہیں،اسی طرح فیاض الحسن چوہان نے پریس کلب میں پریس کانفرنس میں پارٹی تحریک انصاف سے گلے شکوے کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر ملک کے 24 کروڑ عوام دکھی ہیں، اس پر میں بھی دکھی ہوا ہوں، پاکستان کی خدمت کرتا رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں میسج میں عمران خان کو ایک بات سمجھائی کہ ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی چھوڑ دیں، ہم موجودہ حکمرانوں کے خلاف تحریک چلائیں، ریاست اور اداروں سے ٹکرانا سیاستدانوں کا کام نہیں ہوتا، میرے علاوہ عمران خان کو کسی نے نہیں بتایا کہ سیاست میں تشدد نہیں ہوتا، یہ بات بتانے پر میرا زمان پارک کا دروازہ بند کردیا گیا۔

اسی طرح ، سابق اراکین اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری ، عبد الرزاق نیازی اور مخدوم افتخار الحسن گیلانی نے تحریک انصاف کو خیر باد کہتے ہوئے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہے ، فوج ملک کے مضبوط دفاع کی ضامن ہے ۔میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جس طرح کی باتیں کی جارہی تھیں اس حوالے سے اپنے تحفظات سے 9 مئی سے قبل ہی پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کو آگاہ کر دیا تھا ۔

9مئی کے واقعات سمجھ سے بالا تر ہیں ۔ پاکستان کا دفاع مضبوط فوج سے ہی ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ مزید تحریک انصاف کے ساتھ نہیں چل سکتا ۔ قومی املاک اور فوجی تنصیبات پر جس طرح حملے کئے گئے وہ ناقابل برداشت ہیں۔

سابق رکن اسمبلی و ٹکٹ ہولڈر عبد الرزاق نیازی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے لا تعلقی اور پی ٹی آئی کی ٹکٹ واپس کر رہا ہوں۔1985ء سے سیاست کر رہا ہوں ،میں کبھی دبائو میں نہیں آیا ، میرے اوپر کسی طرح کا دبائو نہیں ہے ، میں اپنی مرضی سے سیاست کرتا ہوں ۔ پاک فوج کی تنصیبات پر حملوں سے دنیا کو کیا پیغام دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی وجہ سے دہشتگردی ختم ہوئی ، 9مئی کو جو ہوا یہ قیادت کے ہاتھ بغیر ممکلن نہیں، میں بری الذمہ ہونے کی بات ماننے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ساز ش کے تحت عوام اور فوج کو آمنے سامنے کھڑا کیا جارہا ہے اور ہمارے دشمن بھی یہی چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فوج ہماری ہے ، پاک فوج کے جوان اپنا گھر بار چھوڑ کر سرحدوں پر ہماری حفاظت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی حیثیت میں انتخابات لڑیں گے۔ مخدوم افتخار الحسن گیلانی نے بھی ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9مئی کو شہداء کی تذلیل کی گئی ، قومی اور عسکری تنصیبات پر جس طرح حملے کئے گئے وہ ناقابل برداشت ہیں ۔

میں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف کو چھوڑنے کا اعلان کر رہا ہوں ۔فی الوقت کسی پارٹی میں نہیں جارہا ،دوستوں کے مشورے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کروں گا۔ پاکستان کی سالمیت سب سے اہم ہے جس کے لئے مضبوط فوج نا گزیر ہے ۔