اسلام آباد (ای پی آئی ) ارکان اسمبلی کے سوالات کے جوابات نہ دینے کا عمل ناقابل برداشت ہے یہ طریقہ درست نہیں ،قومی اسمبلی اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی کا وزراء کے رویے پر اظہار ناراضگی ۔
تفصیل کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے وزارتوں کو انتباہ کیا ہے کہ سوالات کے جوابات نہ دینا ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے یہ رویہ اور طریقہ درست نہیں ہے ، ارکان محنت سے سوالات تیار کرتے ہیں ، انہوں نے وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی کو گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی تین دنوں میں ادائیگی کو یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ ایوان میں زرعی پالیسی ساز کمیٹی میں حقیقی کسان نمائندوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا ، پیپلز پارٹی نے فساد اور گھیراؤ جلاؤ میں ملوث جماعتوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا ۔
اجلاس کی کارروائی کے دوران سابقہ حکومت کے کامیاب جوان پروگرام کی تفصیلات سے متعدد بار سوال ارسال کرنے کے باوجود جواب نہ آنے کا معاملہ اٹھ گیا ۔ ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم آفس کی جانب سے آخر اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیا جا رہا تاکہ ہمیں کامیاب جوان پروگرام کی کامیابی معیار بجٹ کی تفصیلات سے آگاہی ہو جبکہ یہ تو سابقہ حکومت کا پروگرام ہے ۔
پارلیمانی سیکرٹری وزیر اعظم آفس شیزا فاطمہ نے کہا کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہوں اور آئندہ اس سوال کا جواب آ جائے گا ۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سوالات کے جوابات نہ آنا ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے یہ کوئی طریقہ نہیں ہے ۔
ارکان کی تجویز پر رواں سیشن کے لیے سوالات اور پارلیمانی بزنس کے حوالے سے رولز میں نرمی کرتے ہوئے فوری طور پر انہیں ایجنڈے میں لانے کی تحریک منظور کر لی گئی ۔ روزانہ کی بنیاد پر جمع ہونے والا بزنس باقاعدگی سے ایجنڈے پر آتا رہے گا کیونکہ گزشتہ روز بھی وفقہ سوالات میں صرف دو سوالات تھے اور ایجنڈے پر انہیں طویل عمل کے پیش نظر مزید بزنس نہ آ سکا جس پر رولز میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
نواب شیر وسیر نے پنجاب میں شوگر ملز کی جانب سے کاشتکاروں کو ادائیگیاں نہ کرنے کا معاملہ اٹھا دیا اور کہا کہ نئی فصل کے لیے کسانوں کے لیے کھاد بیج اور گھر کی ضروریات پوری کرنی ہے مگر وہ معاؤضوں سے محروم ہیں ۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر پارلیمانی امور کو تین دنوں میں کسانوں کو ادائیگیوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ۔
راؤ اجمل نے نکتہ اعتراض پر بجٹ کی تیاری کے حوالے سے زرعی تجاویز سے آگاہی کے لیے ایوان میں بحث کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ زرعی پالیسی ساز کمیٹی میں کسانوں کے حقیقی نمائندے نہیں ہوتے ایوان میں بحث کر کے تجاویز سے حکومت کو آگاہ کیا جائے ۔
کمیٹی میں بھی کاشتکاروں کے حقیقی نمائندوں کو شامل کیا جائے ۔ کھیسو مل داس نے کند کوٹ میں دو سالہ ہندو بچے کے اغوا کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اسے ڈاکو اٹھا کر لے گئے ہیں یہ دو سالہ بچہ کس طرح وہاں رہ رہا ہو گا علاقے میں آپریشن کے لیے رینجرز کو بھجوایا جائے بچے کو بازیاب کروایا جائے ڈاکوؤں نے جینا حرام کر دیا ۔
پیپلز پارٹی کی رکن شمیم آراء پنہور نے مطالبہ کیا کہ ایسی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگنی چاہیے جو فساد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہوں ایسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں اسی ہال میں دنگا فساد کرنے والی جماعت کے ارکان ڈیسک پر چڑھ کر ماحول خراب کرتے تھے ۔


