اسلام آباد (ای پی آئی)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں کارکنان کی جانب سے توڑ پھوڑ جلائو گھیرائو جیسے شرمناک اقدام کے بعد پارٹی کے سینئر رہنما سابق وفاقی و صوبائی وزراء کے علاوہ موجودہ اور سابقہ ممبران اسمبلی ،سینیٹرز کی جانب سے عمران خان سے علیحدگی کے اعلانات کا سلسلہ جاری ہے.

اس حوالے سے طویل مدت سے پی ٹی آئی کے ساتھ منسلک رہنے والے سابق صوبائی وزیر مراد راس کے علاوہ تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری اور سابق صوبائی وزیرفردوس عاشق اعوان کے علاوہ پی ٹی آئی چیف کوآرڈینیٹر سیف اللّٰہ نیازی ، سابق صوبائی مشیر جیل خانہ جات ملک قاسم،لودھراں کے ٹکٹ ہولڈر آصف اعوان، طاہر امیرغوری ،عمران خان کے دست راست گلوکار سلمان احمد اورابرارالحق،انصاف لائرز فورم کرک کے صدر خالد ریاض خان،پاکپتن سے سابق رکن قومی اسمبلی محمد شاہ کھگہ ، رکن صوبائی اسمبلی دیوان عظمت سعد ،دریں اثنا ساہیوال کے حلقے پی پی 198 سے امیدوار مہر ارشاد ،پی ٹی آئی اوکاڑہ کے ضلعی صدر طارق ارشاد،۔ پی ٹی آئی ساہیوال کے جنرل سیکرٹری فیصل جلال،پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی سیدمحمدعباس جعفری، نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے 9 مئی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیا جبکہ کئی رہنمائوں کی جانب سے سانحہ 9 مئی کا ذمہ عمران خان کو ٹھہرایا گیا.

پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر مراد راس کا کہنا تھا کہ عمران خان سے راہیں جدا کر رہے ہیں، جہاں ہم آج بیٹھے ہیں سوچا نہیں تھا ایسی پوزیشن میں ہوں گے۔ ملک اس مقام تک کیسے پہنچا سب جانتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں چاہتا اداروں میں لڑائی ہو، اختلافات تو ہوتے ہیں مگر مل بیٹھ کر حل کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، یہ پلان نہیں تھا، بات کہاں سے کہاں نکل گئی سب کی سمجھ سے باہر ہے۔تحریک انصاف کیلئے 15 سال جدوجہد کی،جو کچھ کر سکتا تھا اس پارٹی کیلئے کیا مگر تحریک انصاف کی پرتشدد سیاست سے متفق نہیں ہوں، مراد راس پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق پی ٹی آئی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عمران خان اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ 9مئی کو منظم سازش کے ذریعے زمان پارک سے بھرپور منصوبہ بندی کرے کے ایک سازش تیار کی گئی جس کا مقصد قومی اداروں کی تضحیک کرنا ارو غیر ملککی آقاوں کو خوش کرنا مقصود تھا۔ اس دن شہدا کی یادگاروں کی جس طرح بے حرمتی کی گئی، قومی ورثے کو جس طرح تباہ کیا اس نے ہر پاکستانی کی روح کو زخمی کیا۔

سابق صوبائی مشیر جیل خانہ جات ملک قاسم کا کہنا تھا کہ 2013 میں آزاد حیثیت سے منتخب ہوا تھا، بہت کچھ برداشت کیا، آئندہ کا لائحہ عمل ساتھیوں کی مشاورت سے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ زیادتیاں اور نا انصافیاں کب تک برداشت کریںگے۔ عمران خان جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں، کرک کی ترقی کیلئے پارٹی میں شامل ہوا تھا مگر فائدہ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی چیف کوآرڈینیٹر سیف اللّٰہ نیازی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیف اللّٰہ نیازی نے کہا کہ تحریک انصاف کو چھوڑ رہا ہوں۔ پچھلے ایک سال کے دوران بہت ڈسٹرب رہا، اپنی فیملی پر توجہ دینا چاہتا ہوں۔

سیف اللہ نیازی نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر انتہائی افسوس ہے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں پاکستان کے مزید بڑے نام پریس کانفرنسز کے ذریعے عمران خان سے علیحدگی کا اعلان کریں گے