اسلام آباد (ای پی آئی ) وفاقی حکومت کی جانب آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنائے گئے 3 رکنی انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ۔

عدالت نے آڈیو لیک انکوائری کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔آڈیو لیک کمیشن کے تحریری حکم اور کارروائی پر بھی حکم امتناع جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق آڈیو لیک تحقیقاتی کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آڈیو لیک انکوائری کمیشن کو مزید کام سے روک دیا ہے ،عدالتی حکم میں کہاہ گیا ہے کہ حکومت عدلیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

آڈیو لیک انکوائری کمیشن کے قیام کا 19 مئی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا۔سپریم کورٹ نے تحریری حکم میں کہا کہ آڈیو لیک انکوائری کمیشن معاملے پر اگلی سماعت 31 مئی کو ہوگی۔عدالت کا کہنا ہے کہ کمیشن میں ججز کی نامزدگی سے متعلق چیف جسٹس کی مشاورت لازمی عمل ہے۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ وفاقیت کے اصول کے تحت دو ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کی نامزدگی کیلئے بھی چیف جسٹس سے مشورہ ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ججز کو نامزد کرنے سے ججوں پر شبہات پیدا ہوئے۔آڈیو لیکش انکوائری کمیشن سے متعلق آج کی سماعت کا حکمنامہ 8 صفحات پر مشتمل ہے۔حکم نامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا، درخواست گزار عمران خان کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔حکم نامہ کے مطابق سپریم کورٹ نے عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین کو تفصیل سے سنا۔

شعیب شاہین کا موقف تھا کہ کمیشن کا نوٹیفکیشن آئین میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کے منافی ہے۔سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔