اسلام آباد (ای پی آئی ) سپریم کورٹ آف پاکستان میں الیکشن کمیشن اوروفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے پنجاب میں عام انتخابات کے حکم پر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت یکم جون تک ملتوی ۔

تفصیلات کے مطابق دائر نظرِثانی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے، خفیہ ملاقاتوں سے معاملات نہیں چل سکتے۔سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے اور عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، صدرمملکت کی منظوری کےبعد نظرثانی قانون بن چکا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ نظرثانی قانون سے متعلق سن کر وکیل الیکشن کمیشن کے چہرے پرمسکراہٹ آئی۔اس دوران اٹارنی جنرل نے صدر کے دستخط شدہ نوٹیفیکیشن بھی عدالت میں پیش کر دیا، نوٹیفکیشن کی دستیاب کاپی کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 26 مئی کو نئے قانون کی منظوری دے دی۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو ایکٹ اب قانون بن چکا ہے، نئے ایکٹ کےتحت نظر ثانی کا دائرہ کار اب اپیل جیسا ہی ہوگا، اب نظرثانی کو فیصلہ دینے والے بینچ سے لارجر بینچ ہی سن سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جمعرات کو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس سماعت کے لیے مقرر ہے، اس کیس کو پھر اسی دن سنیں گے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ 184(3)کے دائیرہ اختیار کے کسی حد تک جائزے کی ضرورت ہے، اس کے حوالے سے ہمارے فیصلے بھی کچھ راستے تجویز کرتے ہیں، کیا دوسرے فریق سے اس ایکٹ کے بعد کوئی بات ہوئی؟ اس کیس کو پھر دوسرے فریق کی موجودگی میں سنیں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر چھٹی پر ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اس بارے بھی حکومت سے ہدایات لے لیں، نیا قانون آچکا ہے ہم بات سمجھ رہے ہیں، آج سماعت ملتوی کر دیتے ہیں، تحریک انصاف کو بھی قانون سازی کا علم ہوجائے گا۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ آپ نے آڈیو لیکس کمیشن کیس میں ہمارا حکمنامہ پڑھا ہو گا، ذہن میں رکھیں کہ عدالت نے کمیشن کالعدم قرار نہیں دیا، عدالت کو عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے، خفیہ ملاقاتوں سے معاملات نہیں چل سکتے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ یہ تاریخی ایکسیڈنٹ ہے کہ چیف جسٹس صرف ایک ہی ہوتا ہے، ہم نے میمو گیٹ، ایبٹ آباد کمیشن اور شہزاد سلیم قتل کے کمیشنز کا نوٹیفکیشن دیکھایا، تمام جوڈیشل کمیشنز میں چیف جسٹس کی مرضی سے کمیشن تشکیل دیے جاتے ہیں، کسی چیز پر تحقیقات کرانی ہیں تو باقاعدہ طریقہ کار سے آئیں، میں خود پر مشتمل کمیشن تشکیل نہیں دوں گا لیکن کسی اور جج سے تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں، یہ سیاسی پارہ معیشت اور امن و امان کو بہتر نہیں کرے گا۔

اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پل کا کردار ادا کریں، آئین کے تمام اداروں کو احترام دیا جانا چاہیے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں حکومت نے نیا عدالتی دائیرہ اختیار بنا دیا، حکومت نے عدالت کے انتظامی امور میں بھی مداخلت کی کوشش کی، خوشی ہے کہ موجودہ قانون صرف 184(3) کے بارے میں ہے، سب کو دوبارہ سوچنا ہو گا۔بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات (یکم جون) تک ملتوی کردی۔