اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کے خلاف دائر مقدمہ میں 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے.

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے فرزند نجم الثاقب کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت 31 مئی 2023 کو جسٹس بابر ستار کی عدالت میں ہوئی دوران سماعت سینئر وکیل سردار لطیف کھوسہ ، شعیب شاہین، مس سوزین جہان خان پیش ہوئیں۔ جسٹس بابر ستار کی جانب سے جاری کیا گیا فیصلہ 7 صفحات اور 11 پیراگراف پر مشتمل ہے ۔ جس میں سب سے پہلے عدالت نے دفتر کی طرف سے درخواست پر لگائے گئے اعتراضات ختم کرتے ہوئے انہیں نمبر لگا کر عدالت کے سامنے سماعت کے لئے مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پیراگراف نمبر 1
پیراگراف نمبر 1 میں عدالت نے لکھا ہے کہ نجم الثاقب اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کی طرف سے 25 مئی کو جاری کئے گئے سمن سے متاثرہ فریق ہے اسپیکر نے یہ کمیٹی ان آڈیو لیکس کے آڈٹ انکوائری اور انویسٹی گیشن کے لئے قائم کی ہے جس میں نجم الثاقب مبینہ طور پر ملوث ہیں ۔

پیراگراف نمبر 2
عدالت نے نجم الثاقب کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل کو شامل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مقدمہ کے فریق نمبر 2 اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے 2 مئی 2023 کو آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی اس آڈیو میں درخواست گزار پی ٹی آئی کے انتخابی ٹکٹ سے متعلق بات کر رہے ہیں وکیل نے مؤقف اپنایا کہ 2 عام افراد کے مابین ہونے والی نجی گفتگو پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتی وکیل نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس ایسے معاملات کی تحقیقات کا کوئی اختیار نہیں ہے حتی کہ جس عمل کا تعلق درخواست گزار نجم الثاقب سے جوڑا جا رہا ہے ملکی قانون کے مطابق وہ کوئی جرم نہیں ہے ۔عام شہری کے عمل سے متعلق کسی بھی معاملے کی تحقیقات کا اختیار انتظامیہ کے پاس ہوتا ہے وکیل نے دلائل نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت یا ریاست کے پاس کوئی اختیار یا دائرہ کار نہیں ہے کہ شہریوں کے درمیان ہونے والی نجی گفتگو ریکارڈ کریں اور ان کی سرویلنس (نگرانی) کریں اس حوالے سے وکیل نے سپریم کورٹ کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسی بنام صدر پاکستان کیس میں دئیے گئے فیصلے کی نظیر پیش کی ۔

پیراگراف نمبر 3
عدالت نے لکھا ہے کہ اس زیر سماعت مقدمے میںانتظامیہ اور مقننہ کے آئینی حدود کے تعین کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے آئین پاکستان کی اسکیم ریاست کے3 ستونوں کے مابین اختیارات کی تقسیم ظاہر کرتی ہے یہ 3 ستون پارلیمنٹ ، انتظامیہ اور عدلیہ ہیں اس لئے یہ عدالت مناسب سمجھتی ہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کئے جائیں کیوں کہ اس معاملے میں آئینی تشریح ہونی ہے۔

پیراگراف نمبر 4
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس کیس میں آئین کے آرٹیکلز 9 اور 14 میں عام شہری کو دئیے گئے آزادی اور پرائیویسی کے حقوق کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے اس مقصد کے لئے عدالت یہ سمجھتی ہے کہ وفاق بذریعہ وزیر اعظم آفس، وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) بطور ٹیلی کام ریگولیٹر اس معاملے کے ضروری فریق ہیں ان کی بھی ضرور سنا جانا چاہئے اس لئے ان فریقین کے بھی نوٹس جاری کئے جاتے ہیں درخواست گزار کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی درخواست میں 3 دن کے اندر تبدیلی کر کے وفاق وزرارت داخلہ، وزارت دفاع اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو بھی فریق بنائیں۔

پیراگراف نمبر 5
عدالت نے تمام فریقین کو19 جون 2023 کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ تحریری رپورٹ اور اس پٹیشن پر پیراوائز کمنٹس 2 ہفتوں کے دوران جمع کرائیں فریق نمبر 1 وزارت پارلیمانی اموراور وفاق بذریعہ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ ، وزارت دفاع اور پی ٹی اے شہریوں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق وضاحت کریں کہ کیا ملک میں کوئی ایسا لیگل فریم ورک موجود ہے ؟ اور اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو رپورٹ میںشہریوں کے درمیان کمیونیکشن کے ذرائع سے ہونے والی گفتگو، ڈیٹا یا پیغامات کی شئیرنگ یا فون کالز کی ریکارڈنگزکے حوالے سے ریگولیٹری، اوور سائٹ فریم ورک سے متعلق تفصیلات بتائی جائیں یہ فریقین ان محکموں یا ایجنسیز کے بارے میں بھی نشاندہی کریں جن کے پاس ٹیلی فون کالز یا سرویل ٹیلی کمیونیکیشن کی صلاحیت موجود ہےعدالت نے لکھا ہے کہ فریقین کی رپورٹس میں اس قانونی میکانزم کی بھی نشاندہی کی جائے جس کے تحت ان اداروںکے پاس شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنے کا اختیار ہے۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا جائے کہ اگر کوئی فون کالز ریکارڈ کی جاتی ہیں تو ان کو کانفیڈینشل رکھنے کے لئے کیا احتیاط برتی جاتی ہیںاور ایسی ریکارڈنگز مذموم مقاصد کے لئے لیک یا استعمال کو روکنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ عدالت نے لکھا ہے کہ وزرات پارلیمانی امور سمیت وفاق ،وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور پی ٹی اے یہ بھی وضاحت کریں گے کہ اگر ان کی طرف سے شہریوں کی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تو بتایا جائے کہ ایسی گفتگو کیسے پبلک کو ریلیز کی جارہی ہے یہ بھی بتائیں کہ کیا ریلیز ہونے والی گفتگو وفاقی حکومت کے علم میں ہے ؟ جس کی وجہ سے لیک یا ریلیز ہونے والی آڈیو گفتگو کی تصدیق و انکوائری کے لئے یہ سینئر ججز پر مشتمل ہائی پاور انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔

پیراگراف نمبر 6
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس مقدمہ میں اپنے پیراوائز کمنٹس اور رپورٹ پیش کریں جس میں بتایا جائے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ آئین کے تحت ایسی کمیٹیاں تشکیل دے سکتے ہیں اس حوالے سے پارلیمانی پروسیجر کو ریگولیٹ کرنے والے قوائد کے بارے میں بھی بتایا جائے اور اس اختیار کے بارے میں بھی بتایا جائے جس کے تحت ان شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو کی تحقیقات کے لئے اسپیشل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نہ تو عوامی عہدہ رکھتے ہیں اور نہ ہی ارکان پارلیمان ہیں۔

پیراگراف نمبر 7
یہ عدالت اس معاملے میں تحمل کے مظاہرے کی ضرورت سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور پارلیمنٹ کے لئے احترام رکھتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ آئین کے تحت دئیے گئے خصوصی دائرہ کار میں کام کرتی ہے اسی وجہ سے یہ عدالت 2 مئی کو جاری کیا گیا وہ سرکلر معطل نہیں کر رہی جس کے ذریعے درخواست گزار کی آڈیو لیکس کی تحقیقات اور آڈٹ کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

پیراگراف نمبر 8
عدالت نے لکھا ہے کہ اس معاملے میںاختیارات کی تقسیم کے حوالے سے آئینی اسکیم کی تشریح کی جانی ہے اور ریاست کے شہریوں سے تعلقات کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے ہے جبکہ آئین میں دئیے گئے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ریاست کا کردار بھی اس معاملے میں سامنے آ رہا ہے اس لئے عدالت سینئر وکلاء اعتزاز احسن، مخدوم علی خان، میاں رضا ربانی اور محسن شاہنواز رانجھا کو عدالتی معاون مقرر کرتی ہے تا کہ وہ اس معاملے میں عدالت کی معاونت کر سکیں۔

پیراگراف نمبر 9
عدالت فاضل اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو درخواست کرتی ہے کہ 5 سوالات پر عدالت کی معاونت کریں۔

سوال نمبر 1
کیا پارلیمنٹ کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار ہے کہ وہ ان پرائیویٹ شہریوںکے بارے میںتحقیقات کر سکے جن کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں ہےکیا ایسے اختیارات انتظامیہ کے دائرہ کار میں نہیں آتے؟

سوال نمبر 2
کیا آئین اور اس کے تحت پارلیمانی کارروائی کو ریگولیٹ کرنے کے لئے بنائے گئے قوائدمیں اسپیکر قومی اسمبلی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ان پرائیویٹ شہریوں کے معاملات کی انکوائری کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کر سکیں جو شہری نا تو ارکان پارلیمنٹ ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی عوامی عہدہ ہے؟

سوال نمبر 3
کیا آئین یا قانون انتظامیہ کو اختیار دیتا ہے اور اس موجودہ کیس میںوفاقی حکومت کے پاس فون کالزکی نگرانی یا ریکارڈ کرنے یا شہریوں کے درمیان ہونے والی پرائیویٹ گفتگو کو ریکارڈ کرنے کا اختیار ہے تو وہ کون سی سپروائزری یا ریگولیٹری لیگل رجیم ہے جس کے تحت ایسی ریکارڈنگ یا سرویلینس کی جاتی ہے؟

سوال نمبر 4
اگر ٹیلی فون کالز کی ریکارڈنگز کی اجازت ہے تو وہ کونسی عوامی اتھارٹی یا ایجنسی ہے جس کو ایسا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے؟ فون کالز کی ریکارڈنگ اور نگرانی کے معاملے میں ریاست کے مفاد اور ایک عام شہری کی آزادی اور پرائیویسی کو کیسے بیلنس کیا جاتا ہے ؟ اور کون سی ایجنسی کو بیلسنگ ایکسرائز کا قانونی اختیار دیا گیا ہے؟

سوال نمبر 5
اگر ٹیلی فون ٹیپ کرنے، شہریوں کے درمیان گفتگو ریکارڈ کرنے یا نگرانی پر کوئی قانونی اجازت نہیں ہے تو اس طرح کی سرویلینس اور شہریوں کی آزادی اور پرائیویسی کے حق یا غیر قانونی طور پر ریکارڈ کی گئی پرائیویٹ گفتگو پبلک کرنے کی ذمہ دار کون سی اتھارٹی یا ایجنسی ہو گی؟

پیراگراف نمبر 10
عدالت نے لکھا ہے کہ عدالتی معاونین ذاتی طور پر پیش ہوں گے اگر وہ چاہیں تو اس عدالت کی معاونت کے لئے اپنی تحریری معروضات جمع کرا سکتے ہیںیہ عدالت توقع کرتی ہے کہ فاضل اٹارنی جنرل ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے ۔

پیراگراف نمبر 11
عدالت نے دفتر کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی معاونین کو اس رٹ پٹیشن کی کاپی اور عدالتی حکمنامہ بھجوایا جائے ۔

عدالت نےمتفرق درخواست پر اپنے حکم میں خصوصی کمیٹی کی طرف سے 25 مئی کو نجم الثاقب کو بھجوائے گئے سمن آئیندہ سماعت تک معطل کر دئیے ہیںاور درخواست گزار کی پیشی سے استثنی کی درخواست بھی منظور کی ہے۔