اسلام آباد (ای پی آئی )ماہواری کے دوران صحت اور حفظان صحت کے حوالے سے ٹیکس اصلاحات پر پالیسی ڈائیلاگ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ،

یونیسف نے سینٹکس پروڈکٹس کے اشتراک سے ماہواری کے دوران صحت اور حفظان صحت کے حوالے سے ٹیکس اصلاحات پر پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا۔ ڈائیلاگ 2022میں دو شراکتداروں کی طرف سے ماہواری کے دوران صحت اور حفظان صحت پر لسانی جغرافیائی بنیادوں پر کی جانے والی تحقیق کا تسلسل ہے۔

بحث ومباحثہ میں حکومت، غیر منافع بخش تنظیموں اور نجی شعبے کے نمایاں سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی جنہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ماہواری کی غربت کے مسئلے سے نمنٹے اور ماہواری سے متعلق مصنوعات تک رسائی کی راہ میں حائل مالی رکاوٹوں کو کم کرنے کےلئے پالیسی اصلاحات پر وکالت کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں

اس موقع پر مہمان خصوصی قومی اسمبلی رکن اور چیئرپرسن پارلیمانی کمیٹی برائے قانون مہناز اکبر عزیز نے پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیکس اصلاحات کی حمایت کریں گی ۔ یونیسف پاکستان کی ڈپٹی نمائندے ڈاکٹر اناؤسا کابوری اور سینٹکس پروڈکٹس کے ہیڈآف مارکیٹنگ فواز احمد اور دیگر شخصیات نے بھی ان سے اتفاق کیا۔ ڈائیلاگ نے پاکستان میں ماہواری صحت اور حفظان صحت پر حالیہ لسانی جغرافیائی تحقیق کے نتائج کا اجاگر کیا جس کا مقصد ماہواری غربت کے مسئلے سے نمٹںے کےلئے موثر حکمت عملیاں تشکیل دینے کےلئے اہم سیٹک ہولڈرز کے مابین اشتراک کو فروغ دینا ہے۔

مقررین اور پینلسٹ نے دنیا بھر سے اس حوالے سے قیمتی بصیرت افروز تجربات اور کامیاب اقدامات کا تبادلہ کیا اور پالیسی سازوں اور نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان میں مقامی رواج کا احترام کرتے ہوئے اس طرح کی سوچ کو اپنائیں۔ پاکستان کے قدرتی آفات سے متاثرہ اور دیہی علاقوں میں خواتین بلخصوص نوعمر لڑکیوں کو اس معاملے میں فوری معاونت کی ضرورت ہے۔

شرکاءنے خواتین کی صحت سے براہ راست منسلک مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی یا خاتمہ کےلئے متعدد پہلوؤں پر فکرانگیز بات چیت کی۔اپنے ٰخطاب میں مہناز اکبر عزیز نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیاکہ صرف 7فیصد پاکستانی خواتین سینیٹری نیپکنز استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ بہت زیادہ لاگت، عدم دستیابی، سماجی دقیانوسی روایات اور آگاہی کی کمی ہے۔

انہوں نے ملک بھر میں معمولی، سستی قیمتوں پر سینیٹری نپکنز تک آسانی رسائی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ محترمہ عزیز نے حکومت، بجٹ کمیٹی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سینیٹری نیپکنز کو پرتعیش اشیائکی بجائے ایک ضرورت تسلیم کریں ۔

انہوں نے ملک میں تمام خواتین کو ان ضروری مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکس سے چھوٹ اور قیمتوں میں کمی پر زور دیا۔ڈاکٹر اناؤسا کابوری نے مہناز عزیز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرزکے کردار پر ان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے حکومت، سول سوسائٹی کی تنظیموں ، نجی شعبہ کے شراکت داروں اور افراد پرزور دیا کہ وہ ماہواری صحت سے متعلق درپیش چینلجز سے نمٹنے ،معاشرتی روایتوں کو توڑنے اور پائیدار حل کے نفاذ کےلئے مل کر کام کرنے کےلئے آگے آئیں سینٹکس پروڈکٹس کے ہیڈآف مارکیٹنگ فواز احمد نے ماہواری کی غربت سے نمٹنے اور پالیسی اصلاحات کی وکالت میں ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ماہواری کے دوران مالی بوجھ کے خاتمے کےلئے ماہواری سے متعلق مصنوعات پر ٹیکس میں کمی یا استثنیٰ قرار دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

ڈائیلاگ کی روشنی میں ماہواری ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے مندرجہ ذیل تجاویز دی گئی ہیں:
۔ مقامی سطح پر تیار کردہ سینیٹری نیپکز کو ” لازمی آئٹم“ قراردیا جائے اور انہیں خوراک اور طبی سپلائی کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے چھٹے شیڈول میں شامل کیا جائے۔
۔متبادل کے طوپر مقامی سطح پر تیار کردہ سینٹری نیپکنز اور ان کے خام مال کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرکے سیلز ٹیکس میں مناسب کمی پر غور کیا جائے
۔سیپ پیپر ،جو سینیٹری نیپکنز کےلئے ایک ضروری خام مال ہے اور تقریباً کل لاگت کا 26فیصد کا باعث بنتا ہے ،کو غیر ضروری پرتعیش اشیاءکی فہرست سے نکال دیاجائے جس پر 25فیصد کا بہت زیادہ سیلز ٹیکس عائد ہے۔