اسلام آباد(ای پی آئی ) توشہ خانہ کے حوالے سےبہت اہم سوال اٹھ رہا ہے اس کا جواب عوام ملنا چاہئے،ہا ئی کورٹ کرمنل ملزم کو ضمانت دے رہی ہے، سمجھ نہیں آ رہی اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کو کیسے ریلیف فراہم کر دیتی ہے یہ سہولت صرف عمران خان کو میسر ہے پاکستان میں باقی کسی کو نہیں

ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر راہنماء بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ ہمارا کیس الیکشن کمیشن کے ایکٹ کے تحت ہے ہی نہیں،نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ٹرائل ہو سکتا ہے تو عمران خان کے خلاف کیوں نہیں ہو سکتا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ نااہل کیا جائے گا اور دوسرا کرمنل ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ میں نے آرٹیکل 63/2 کے تحت پارلیمنٹ میں کیس دائر کیا تھا نہ کہ الیکشن کمیشن میں،ہم نے سپیکر اسمبلی کے پاس یہ سوال اٹھایا کہ عمران خان نے توشہ خانہ میں اثاثے چھپائے ہیں، الیکشن کمیشن نے جب کاروائی کی تو انہوں نے کہا عمران خان نے اثاثے چھپائے ہیں،

انھوں نے کہا کہ ہا ئی کورٹ کرمنل ملزم کو ضمانت دے رہی ہے، سمجھ نہیں آ رہی اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کو کیسے ریلیف فراہم کر دیتی ہے۔ یہ سہولت صرف عمران خان کو میسر ہے پاکستان میں باقی کسی کو نہیں،ہمارا کیس الیکشن کمیشن کے ایکٹ کے تحت ہے ہی نہیں،جب پاکستان کی سپریم کورٹ کہ چکی ہے تو پھر کیسے الیکشن کمیشن کا فوجداری کیس میں سٹے آڈر مل سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ سہولت نواز شریف کو نہیں ملی یہ صرف سہولت عمران خان کو حاصل ہے۔ اگر نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ٹرائل ہو سکتا ہے تو عمران خان کے خلاف کیوں نہیں ہو سکتا۔ یہ کہیںنہیں لکھا کہ فوجداری کیس کو روک کر سٹے آرڈر دیدیا جائے ۔ کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ 120 دن گزر جائیں تو یہ کیس نہیں بنتا۔منصفوں سے توقع ہے کہ وہ انصاف کریں گے۔