اسلام آباد(ای پی آئی )موجودہ بجٹ کا حقائق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اوریہ خواہشات پر مبنی ہے اور عوام کو خوش کرنے کے لئے ہے۔ جبکہ سودی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے بجٹ میں اتنی بڑی رقم رکھی ہے کہ آپ نے آئندہ نسلوں کو بھی سود کی زنجیروں میں جکڑدیا ہے
ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ایک انٹرویو کے دوران کیا انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتاکہ موجودہ بجٹ کوئی حقیقت پسندانہ بجٹ ہے۔کل بھی جماعت اسلامی کا یہی مطالبہ تھا اورآج بھی ہے کہ احتساب ہو اورسب کا ہو ،بے لاگ ہو اورشفاف ہو۔ میراواضح مئوقف ہے کہ 2023میں ہر صورت انتخابات ہونے چاہئیں،اب عوام کو اختیار دیا جائے تاکہ وہ اپنے لئے نئی حکومت کا انتخاب کریں۔
انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کراچی کے میئر کے الیکشن کے دن تمام یونین کونسل کے چیئرمینوں کو پولنگ سٹیشن لایا جائے اورایک آزادانہ ماحول میں ان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے، اب تک جو صورتحال ہے وہ یہی ہے کہ اگر اعدادوشمار پر جاتے ہیں تو جماعت اسلامی کا میئر ہونا چاہیے۔۔ سراج الحق نے کہا کہ اگر کسی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہوتوقبرستان کی طرح ماحول ہوتا ہے اورکسی اسمبلی میں اپوزیشن نہیں اور یہ موقع پی ٹی آئی نےپی ڈی ایم کو فراہم کیا ہے، یہ شاید پی ڈی ایم کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں خالی میدان ملا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بجٹ ایک ایسی حکومت نے پیش کیا ہے جو خود41دنوں کی مہمان ہے۔ اگر ملک کا کوئی آئین ، قانون اور ضابطہ ہے تو41دن بعد اس حکومت نے رخصت ہونا ہے، مدت مکمل ہورہی ہے، سوال یہ ہے کہ مہمان حکومت ایک سال کے لئے بجٹ بنا بھی سکتی ہے یا نہیں، اگر بجٹ بنایا بھی ہے توکیااس کا حقائق کی دنیا سے کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں یا صرف اعدادوشمار ہیں جو بابو صاحبان نے تیار کئے ہیں اوراسحاق ڈار نے سنائے ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ دلچسپ بیان تووزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف کا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ ہم نے من وعن ایم ڈی آئی ایم ایف کے احکامات پر عمل کیا ، ہر چیز کو مانا، جو ایڈوائس اورڈائریکشن ان کی طرف سے تھی اس کے مطابق ہم نے سارے مالی معاملات طے کئے۔کیا یہ بجٹ پاکستان کی عوام کے لئے ہے یا آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے ہے، اگر یہ بجٹ عوام کے لئے ہوتا تواس میں 9ہزارارب روپے سے زیادہ ٹیکسز نہ ہوتے،گزشتہ 15،20سال کے دوران کبھی ٹیکس وصولی کا ہدف پورانہیں کیا، ایک بار پھر اپنی خواہشات کی دنیا پر خواب دیکھا ہے کہ آپ ہم 9100ارب روپے اکٹھے کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ جو قوم آٹے کے لئے ٹرکوں کے پیچھے لگی ہے کیا آپ ان سے 9ہزار ارب ریونیو اکٹھا کرسکتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کااحترام کرتا ہوں اوراب ہماری حکومت سود کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرے گی لیکن اس بجٹ میں 7303ارب روپے سود کی ادائیگی کے لئے رکھے ہیں۔ موجودہ حکومت نے شرح سود میں 13فیصد اضافہ کرے 21فیصد تک پہنچایا ہے اوردوسری طرف سود کی ادائیگی کے 7303ارب روپے رکھے ہیں۔ ملک کا کل بجٹ 14ہزارارب روپے ہے اوراگراس میں سے آپ7ہزارارب روپے سودکی ادائیگی میں دیں گے توپھرآپ کے پاس باقی کیا رہ جائے گا، صوبوں کو بھی رقم دینی ہے اور1800ارب روپے دفاع پر بھی خرچ کرنے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ کا حقائق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اوریہ خواہشات پر مبنی ہے اور عوام کو خوش کرنے کے لئے ہے جبکہ سودی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے بجٹ میں اتنی بڑی رقم رکھی ہے کہ آپ نے آئندہ نسلوں کو بھی سود کی زنجیروں میں جکڑدیا ہے۔ میں نہیں سمجھتاکہ موجودہ بجٹ کوئی حقیقت پسندانہ بجٹ ہے، میں تجویز دوں گا کہ سب سے پہلے حکومت کے بڑے اپنی ذات سے آغاز کریں، پھر کابینہ، پھر ایم این ایز، پھر سینیٹرزسے آغاز کریں، پھر اپنی کابینہ کو چھوٹا کر لیں، پھر اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کو ختم کریں، پھر بیرونی دوروں کو کم کر لیںاگر یہ قربانی آپ خود نہیں دے سکتے اور صرف عوام سے قربانی کا تقاضا کرنا یہ عوام کے ساتھ انصاف نہیں۔
جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی قومی اسمبلی اور سینیٹر مشتاق احمد خان سینیٹ میں جماعت اسلامی کی نمائندگی بھی کریں گے اورپوری قوم کی نمائندگی کریں گے اورقوم کو بتائیں گے کہ اس بجٹ میں کیا خامیاں ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ عمران خان کے لئے تمام راستے موجود ہیں، نوازشریف کی طرح ملک چھوڑتے تویہ ان کی چوائس ہے جس طرح شاہ محمود قریشی نے سنا ہے کہ ان کو مشورہ دیاہے لیکن فارسی میں کہتے ہیں کہ میرے ساتھ جوکچھ ہوا میرے اپنے ہاتھوں سے ہوا، شاید یہ واحد جماعت ہے جنہوں نے اپنی حکومت خود ختم کرنے میں کلیدی کرداراداکیا۔پی ٹی آئی نے 99فیصد اپنی حکومت خود ہی ختم کی، خود ہی استعفیٰ دیا کسی نے مجبورتونہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے ساتھ بھی ظلم اورزیادتی کی، اپنے کارکن کے ساتھ بھی زیادتی کی اور بہت بڑے حادثے سے یہ پارٹی اب دوچار ہے، بحیثیت مجموعی پارٹی کا اس وقت بہت بڑا نقصان ہواہے۔ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت ،سیاسی پارٹی پرپابندی لگانے کے حق میں نہیںہے لیکن 9مئی کو جو کچھ ہوا ہے وہ بھی ایسا نہیں ہے آپ اس کو کہہ دیں رات گئی بات گئی، یہ پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں بہت بڑاسانحہ ہے، ہم نے توکم ازکم اپنی زندگی میں یہ نہیں دیکھا تھا، لیکن جو کچھ ہوا بہت برا ہوا، پی ٹی آئی پرپابندی لگانے کا سوال قبل ازوقت ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ میراواضح موقف ہے کہ 2023میں ہر صورت انتخابات ہونے چاہئیں،اب عوام کو اختیار دیا جائے تاکہ وہ اپنے لئے نئی حکومت کا انتخاب کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ الیکشن کے علاوہ کوئی راستہ اورآپشن نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر پی ڈی ایم نے اپنی حکومت کی مدت میں توسیع کی کوشش کی بھی تویہ ان کا ایک نامقبول فیصلہ ہوگا اورخودپی ڈی ایم کے لئے میں اس میں زیادہ نقصانات دیکھ رہا ہوں،
انھوں نے کہا کہ میں پُرامید ہوں کہ جیسے ہی اسمبلی کی مدت پوری ہو گی نگران حکومتیں بنیں گی اور الیکشن کا انعقاد ہوگا۔ ہمارے ملک کا مسئلہ یہی ہے کہ جو کو ئی بھی تھوڑے بہت اختیارات ملتے ہیں وہ اپنے آپ کا بادشاہ اورعقل کل سمجھتا ہے۔ عوام پر اعتماد کرنا چاہیے، عوام ہمیشہ مثبت ہوتے ہیں اور ملک کی بہتری کے لئے سوچتے ہیں۔ سیاسی رہنمائوں کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں لیکن عوام کی صرف ایک ہی خواہش ہے کہ ملک ترقی کرے اورعزت کے ساتھ ان کوایک ایسا ماحول ملے جس میں وہ عزت کے ساتھ زندگی گزاریں۔
آئین میں الیکشن کا ایک راستہ ہے، جو پارٹیاں الیکشن میںحصہ لے رہی ہیں ان کو بلایا جائے اورشفاف الیکشن کے لئے ایک نظام اورایک سسٹم پر اتفاق کیا جائے ۔میں سمجھتا ہوں کہ مرکز اورصوبوں میں نگران حکومتیں ہوں اور ایک دن الیکشن ہو، یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کارنامہ ہو گا کہ اگر وہ ایک دھاندلی فری الیکشن دینے میں کامیاب ہوجائے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ سادہ سی بات ہے ہم چاہتے ہیں کراچی کے میئر کے الیکشن کے دن تمام یونین کونسل کے چیئرمینوں کو پولنگ سٹیشن لایا جائے اورایک آزادانہ ماحول میں ان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے، اب تک جو صورتحال ہے وہ یہی ہے کہ اگر اعدادوشمار پر جاتے ہیں تو جماعت اسلامی کا میئر ہونا چاہیے،
انھوں نے کہا کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو مشورہ دوں گا کہ شہریوں کے مینڈیٹ اورفیصلے کو قبول کر لے اورریاست اورحکومت اپنی انتظامیہ کو الیکشن پر اثرانداز ہونے کے لئے استعمال نہ کرے، اگر پیپلز پارٹی کچھ کرنا بھی چاہتی ہے توحیدرآباد میں کر لے، سکھر میں کر لے،لاڑکانہ میں کر لے ، شکار پور میں کر لے، یہ ایک شہر ہے جہاں جماعت اسلامی نے پہلے بھی دو بار میئرشپ سنبھالی ہے اورکامیابی کے ساتھ اس شہر کی خدمت کی ہے، اگرآپ چاہتے ہیں کہ کراچی ترقی کرے تواس کو جماعت اسلامی کے حوالے کردیں۔ میرے علم کے مطابق کئی چیئرمین گرفتارہوگئے ہیں اور میری یہ کوشش ہے کہ ان کو الیکشن کے دن پولنگ سٹیشن لایا جائے تاکہ وہ اپنا حق استعمال کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تویہ ظلم ہو گا، جبر ہوگا اور زیادتی ہو گی اورایک نارواکام ہو گا اورجبر اورظلم کے خلاف جتنی آواز ہم اٹھاسکتے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ ہم اٹھائیں گے


