اسلام آباد (ای پی آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہر یار آفریدی کو عدالتی حکم کے باوجود عدالت پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا،دوران سماعت شہر یار آفریدی کے بھائی فرخ آفریدی کے وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ شہریار خان آفریدی کو اس ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے جہاں ممتاز قادری کو رکھا گیا تھا.

جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا ہے.

کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو وکیل درخواست گزار شیر افضل مروت ایڈوکیٹ اور اسلام آباد پولیس کے تفتیشی افسران سرکاری وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے. مدعی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کو اسلام آباد میں متعلقہ عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا.

خاندان کے افراد کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی شہر یار آفریدی کو جیل میں اس سیل میں رکھا گیا ہے جہاں ممتاز قادری کو رکھا گیا تھا، اور اب وہاں مختلف بیماریوں میں مبتلا قیدی رکھے جاتے ہیں.

وکیل نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کی طرف سے پانچ عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ہے ،احکامات کی حکم عدولی کرکے یہ عدالتوں کو بے توقیر کررہے ہیں، شیر افضل مروت ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کے موکل شہر یار آفریدی کا ایک بازو میں بھی مفلوج ہو چکا ہے، شہریار آفریدی کو مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ،

عدالتی استفسار پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ شہر یار آفریدی کی حوالگی کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹینڈنٹ کو خط لکھا تھا ،خط لکھنے کے باوجود جیل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے شہریار آفریدی کی حوالگی نہیں دی گئی ، اب متعلقہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کو لکھا گیا ہے.

اسلام آباد پولیس گرفتار کرنے گئی لیکن جیل سپرنٹنڈنٹ نے گرفتاری دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے لگائے گئے ایم پی او ختم ہونے کے بعد حوالے کرینگے. وکیل شیرافضل مروت نے استدعا کی کہ آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے، عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر مناسب حکم نامہ جاری کریں گے ،
کیس کی سماعت انیس جون تک ملتوی کردی گئی