اسلام آباد (ای پی آئی )اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارلحکومت میں قائم نجی شاپنگ سینٹر (سینٹورس مال ) کی طرف سے عام شہری اور سرکاری زمین پر کی گئی تجاوزات آئندہ جمعہ 23 جون تک ختم کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
عدالت نے سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر انفورس منٹ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا سی ڈی اے سو رہا ہے کہ سرکاری جگہوں پر قبضے ہو رہے ہیں .
جسٹس ارباب طاہر کی عدالت نے شہری شاکر علی کی جانب سے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا تو سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نذیر احمد نے عدالت کو بتایا کہ نجی شاپنگ مال کی دائیں جانب لگائی گئی ٹف ٹائل ہٹا دی گئی ہے تاہم بائیں جانب سی ڈی اے کی زمین کی نشاندہی کرنا باقی ہے .
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشاندہی کب تک ہوگی کیا سی ڈی اے سو رہا ہے آئندہ جمعہ تک عدالت کو بتایا جائے کہ کتنی زمین پر قبضہ ہو چکا ہے یہ کیا بات ہوئی کہ سرکاری زمین پر قبضہ ہے اور آپ کو علم ہی نہیں آپ کو تو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری ہونا چاہیے ۔
عدالت نے سی ڈی اے کے افسر سے کہا کہ آپ کو علم نہیں عدالت کے حکم کے کیا اثرات ہونگے درخواست شہری شاکر علی نے موقف اپنایا کہ ان کی زمین پر بھی شاپنگ مال کے مالکان نے قبضہ کر رکھا ہے جس پر عدالت نے زبانی ہدایت کی کہ اس شہری کی زمین بھی واگزار کرائی جائے سردار تنویر الیاس کے وکیل نے کہا کہ ہم نے کہیں تجاوزات نہیں کیں ۔
پارکنگ کا پلاٹ میٹروپولیٹین کارپوریشن کا ہے جس پر فاضل جج ارباب طاہر نے خبردار کیا کہ عدالت کے ساتھ چکر نہ کریں سی ڈی اے کو جمعے تک اپنا کام کرنے دیں پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے آپ کتنے سال تجاوزات کر کے فائدہ حاصل کر رہے ہیں .
عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر انفورسمنٹ سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ جمعہ کو کیس کی سماعت سے پہلے تحریری رپورٹ جمع کروائیں پھر ہم دیکھ لیں کہ ڈی سی یا پٹواری کو طلب کرنا ہے یا نہیں ،عدالت کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو چیئرمین سی ڈی اے کو طلب کر کے سب فریقین کو سنا جائے گا۔


