اسلام آباد (ای پی آئی ) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ،سابق سینیٹرفرحت اللہ بابرنے کہاہے کہ کسی سویلین کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل نہیں ہوسکتا،

پاکستان پیپلزپارٹی کا واضح موقف ہے کہ 9مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے لیکن کیونکہ یہ واقعات آرمی ایکٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ عمران خان کے خلاف ریورس پولیٹیکل انجینئرنگ ہو رہی ہے ،مائنس ون کا فارمولہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا ۔ آئندہ الیکشن اکتوبر یا نومبر میں ہونگے ۔پیپلزپارٹی پاکستان میں بد ترین معاشی صورتحال کی ذمہ دار نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کےسابق سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے نجی ٹی وی پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ بینظیر بھٹو شہید جب پہلی بار وزیر اعظم بنیں 2 دسمبر 1988 کوتو انھوں نے کہا تھا کہ آرمی ایکٹ کے تحت جن لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں ہم ان کو ختم کریں گے ۔ اس کے بعدملٹری کورٹس کی طرف سے دی گئی تمام سزائیں ختم کر دی گئیں ۔

انھوں نے کہا کہ میں اس کے خلاف ہوںکہ ملٹری کورٹ عام شہریوں(سویلینز) کا ٹرائل کرے ۔ اگر پارٹی کے موقف کی بات کریں تو اگر آپ نے ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو کی بات سنی ہو تو انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جو 9 مئی کے واقعات ہوئے ہیں وہ آزادی ، ایسوسی ایشن اور فریڈم آف سپیچ اس کے ضمرے میں نہیں آتے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

انھوں نے کہا کہ اب یہ پارٹی کا موقف ہو یا نہ ہو لیکن میرا اپنا موقف یہ ہے کہ یہ جو آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کو سزائیں ہوتی ہیں یہ قانون 1966 اس وقت کے ایوب خان نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ڈالا تھا اس ترمیم میں یہ قانون میں شامل کیا گیا تھا کہ 2 جرائم ایسے ہونگے فوج کے اندر بغاوت کرنا اور جاسوسی کرنا کہ اس میں اگر سویلین بھی ہوگا توفوجی عدالتیں ٹرائل کریں گی ۔

انھوں نے کہا کہ 1966 سے لیکر 2023 تک کسی پارلیمان نے اس کو تبدیل نہیں کیا تو یہ قانون کا حصہ تو ہے لیکن میرا موقف یہ ہےاور میں نے وکلاء کے کنونشن میں کہا ہے کہ آپ وکلاء ہیں آپ ذرا اس بات پرغور کریں اگر قانون یہ کہتا ہے کہ یہ 2جرائم ہیں تو کیا لاہور کے واقعات ان 2 جرائم کے ذمرے میں آتے ہیں یا نہیں آتے تو میری نظر میں نہیں آتے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ قانونی طور پر بھی ہم یہ جنگ لڑ سکتے ہیں کہ اگرچہ آرمی ایکٹ اپنی جگہ پر بھی موجود ہے کسی پارلیمان نے اس کو ختم نہیں کیا ۔ لیکن میرا یہ موقف ہوگا کہ کسی سویلین کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہو نہیں سکتا ۔یہ فیئر ٹرائل سے متعلق آئینی آرٹیکل ( 10 اے ) کے خلاف ہے ۔

انھوں نے پارٹی کےموقف بارے سوال پر موقف اپنایا کہ چیئر مین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنمائوں کی جانب سے آرمی ایکٹ کو چیلنج کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کو کریڈٹ دینا چاہیے کیونکہ اتنا سینئر عہدیدار بیرسٹر اعتزاز اپنے طور پر سپریم کورٹ میں جاتا ہے اور پٹیشن دائر کرتا ہے اور پارٹی نے اسے کچھ نہیں کہا اور کیونکہ پارٹی نے ابھی تک واضح طور پر نہیں کہا کہ وہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کے حق میں ہے یا نہیں تاہم پارٹی اس حد تک تو گئی ہے لیکن پارٹی نے نہ لطیف کھوسہ صاحب کو اور نہ اعتزاز صاحب کو نہیں کہا کہ آپ عدالت کیوں گئے ۔

اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کو سپورٹ کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب کو سپورٹ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ان کا کہنا تھا لپ میں نے آپ کو پارٹی کا موقف بتایا ہے کہ پارٹی کا موقف یہ ہے کہ قانون کے مطابق ہر عمل ہونا چاہیئے اب اس سے مجھ جیسے لوگوں کو پارٹی کے اور لوگوں کو اس موقف سے یہ گنجائش ملتی ہے کہ یہ آواز پارٹی کے اندر اٹھائی جائے کہ یہ درست نہیں ہے ۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک اعتزازاحسن اور لطیف کھوسہ کا عدالت میں جانا ہے تو میں خود ایک اور کیس میں عدالت میں گیا ہوں سپریم کورٹ میں مجھے پارٹی نے کچھ بھی نہیں کہا کہ تم کیوں وہاں گئے ہو وہ خیبرپختونخوا میں وہ جوحراستی مراکز بنے ہیں میں نے ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور میں سپریم کورٹ میں اس جو پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ جسے سپریم کورٹ نے معطل کیا تھا تو میں اس میں سپریم کورٹ میں شامل ہوا تو میں نے اس کو چیلنج کیا تو پارٹی نے مجھے کچھ نہیں کہا ۔

اس موقع پر سوال کہ آپ لوگوں کی بات آپ کی پارٹی کیوں نہیں مانتی ہے کے جواب میں فرحت اللہ بابر نےکہا کہ کیا یہ کم ہے کہ ہمارا ایسا موقف پارٹی سنتی ہے اور غور بھی کر رہی ہے کیا کسی اور جماعت میں آپ نے ایسا دیکھا ہوگا ۔سینٹ کا ٹکٹ نہ ملنے اور ترجمان اور سیکرٹری جنرل بننے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھے سینیٹر کا ٹکٹ نہ ملنا اور سینیٹر نہ ہونے کے باوجود بھی جو کام میں کر رہا ہوں وہ سینیٹر بننے سے زیادہ بہتر ہے ۔ جبکہ میں پارٹی کے خلاف نہیں گیا جو پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ تھاحراستی مراکز کے خاتمے کا اس کے خلاف وہاں کی حکومت سپریم کورٹ میں آگئی سپریم کورٹ میں آنے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ معطل کر دیا میں وہاں شامل ہوں میں نہیں سمجھتا کہ میری پارٹی جو ہے اس بات پر ناراض ہوگی اور کہے گی تم نے ایسا کیوں کیا ۔

انھوں نے کہا کہ میں پارٹی کے اندر آواز اٹھاتا ہوں پارٹی اگر اس پرراضی ہو گئی ہے کہ قانون کے مطابق اور مجھے اگر اجازت ہے کہ میں یہ کہوں کہ جی موجودہ قانون کے تحت نہیں ہوسکتا تو مجھے اور اس سے کیا چاہیے ۔انھوں نے مسلم لیگ ن کے ساتھ بطور اتحادی ایک سال گزارنے اور معاشی صورتحال کی ذمہ داری لینے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اتحادی حکومت جب بھی ہوتی ہے تو تمام ٍاتحادی جماعتوں کو ذمہ داری لینی پڑتی ہے لیکن آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ اس بجٹ کے خلاف کچھ پاکستان پیپلزپارٹی کے لوگوں نے اور کچھ دوسری اتحادی جماعت کے لوگوں نے بھی اعتراضا ت اٹھائے ہیں تو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہونی چاہیے ۔

انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کے معاشی صورتحال میں ہم ن لیگ کے ساتھ برابر کے ذمہ دار ہیں ہم اتحادی ہیں اور اگر آپ نے اس طرح جونیئر پارٹنر ہو اور اگر کوئی کام غلط ہو رہا ہے تو آپ کی ذمہ داری بھی اور آپ پر جو انگلی اٹھے گی وہ بھی اسی طرح دیکھیں صاف بات ہے اکنامک ایشوز جو ہیں وہ بہت سیریس ہیں اور آپ نے بلاول صاحب کی تقریر بھی سنی جو بجٹ کے اوپر انھوں نے بات کی ۔

اس موقع پر عام انتخابات کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ الیکشن اکتوبر میں ہونے چاہیے اور میرا خیال ہیں الیکشن اکتوبر یا نومبر میں ہونگے بھی یہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کو ختم ہو رہی ہے اگر 12 اگست کو ختم ہوگئی تو 12 اکتوبر تک انتخاباب کرانے ہیں لیکن اگر 12 اگست سے 2 دن پہلے ختم کر دیا تو پھر یہ بات نومبر تک چلی جائے گی ۔

انھوں نے کہا کہ اگر الیکشن اسی سال ہونگے اگر نومبر میں الیکشن نہیں ہوتے تو یہ غیر آئینی ہوگا بالکل غیر آئینی ہوگا ۔چیئرمین پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے میں پارٹی کا سیکرٹری جنرل رہا ہوں میں نے 2018 میں دیکھا ہے پروجیکٹ عمران خان کیسے کھڑا کیا پولیٹیکل انجینئرنگ کی اب جو میں دیکھ رہا ہوں ۔اب میں دیکھ رہاں ہوں کہ کہیں ریورس پولیٹیکل انجینئرنگ شروع ہوجائے عمران خان ریورس پولیٹیکل انجینئرنگ ۔

انھوں نے کہا کہ میرے پاس ثبوت نہیں ہے اگرچہ مجھے شک ہوتا ہے کہ یہ ریورس پولیٹیکل انجینئرنگ کچھ لوگ کر رہے ہیں لیکن پھر وہ شک کا ازالہ اس طرح میں کرتا ہوں کہ یہ جو پی ٹی آئی کے لوگ جس طریقے کے ساتھ اگر یہ غائب ہوتے لاپتہ ہو گئے ہوتے تو یقیناً ہر شخص کہتا کہ بھائی یہ تو ریورس انجینئرنگ لیکن جب پی ٹی آئی کے لوگ خود ہی ایسے تو میں واضح طور پر نہیں کہہ سکتا لیکن مجھے شک ہے کہ ہاں ریورس انجینئرنگ ہو رہی ہوگی میرے پاس ثبوت نہیں لیکن مائنس ون کا فارمولہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا خواہ وہ عمران خان کے خلاف کریں خواہ کسی اور کے خلاف کریں یہ ناممکن ہے۔

اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو میڈیا پر بلیک آئوٹ نہیں کرنا چاہیے اس سے کچھ حاصل نہیںہوگا جتنا بھی آپ کسی کو بلیک آئوٹ کرو گے جتنا بھی آپ کسی کو غیر سیاسی طریقے سے سیاسی عمل سے ہٹائو گے وہ ابھر کے آئے گا یہ غلط بات ہے انھوں نے کہا کہ مجھے شک ہے کہ ریورس انجینئرنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے لیکن جب میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کے بڑے لوگ جو لاپتہ نہیں اور جیل کے اندر تھے اور ان میں ذرا بھی سکت نہیں تھی تو مجھے بڑا افسوس ہوا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے لوگوں نے کوڑے کھائے جلا وطن ہوئے پھانسیاں چڑھے لوگ ٹوٹ پھوٹ گئے لیکن سبسٹینس آپ دیکھیں ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں بالکل نہیں چاہتا کہ ایک وزیر اعظم عدالتی قتل ہوجائے یہ میں ہرگز نہیں چاہتا کسی اور وزیر اعظم کو یا کسی اور کو اس طرح سے عدالتی قتل کے ذریعے میں مذمت کروں گا انھوں نے چیئرمین سینٹ کی مراعات میں اضافے کے بل پاس ہونے کے حوالے سے سوال پر جواب میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے لئے مراعات میں اضافے کے بل پر جس نے دستخط کیے ہیں ان کا پتہ نہیں لیکن میں اس کی مذمت کرتا ہوں پارلیمان کے اندر خود پی پی پی کے سینیٹرز اور ایم این ایز نے اس پر اعتراض کیا ہے یہ غلط ہوا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ سینیٹ کا چیئرمین کہے کہ مجھے جہاز دے دیدو تنخواہ بڑھا دو یہ کیسے ممکن ہے انھوں نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ اس بل کو قومی اسمبلی پاس نہ کرے اور صدر پاکستان بھی سائن نہ کرے اور اس کے خلاف آواز اٹھائی جانی چاہیے ،

اس موقع پر چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کی ضرورت اور اس میں عمران خان کو شامل کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی تھی جو چارٹرڈ آف ڈیموکریسی ہے اس میں ابھی چار کلازز ایسے تھے جن پر کام نہیں ہوا تھا پچاسی سے نوے فیصد تک کام ہوچکا تھا انھوں نے کہا کہ ہم نے بات چیت تو شروع ہو گئی تھی اور فیصلہ ہوا تھا کہ ایک ہی دن صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات ہونگے یہ فیصلہ ہوا تھا اس کے بعد کیا ہوا عمران خان نے کہا میں تو یہ مانتا ہی نہیں ہوں ۔