اسلام آباد (ای پی آئی )وزیراعظم شہباز شریف کی لمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات ، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری پروگراموں اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا ،

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی دعوت پر 22 اور 23 جون کو ہونے والے نیو گلوبل فنانسنگ پیکٹ (نئے عالمی مالیاتی معاہدے) کے لیے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پیرس پہنچے تھے ۔

جہاں انھوں نےآئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور 27 مئی 2023 کو اپنی حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کرسٹالینا جارجیوا کو پاکستان کے معاشی نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے معاشی ترقی اور استحکام کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توسیعی فنڈ سہولت کے تحت نویں جائزے کے لیے تمام پیشگی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئی ایم ایف کے ای ایف ایف کے تحت مختص فنڈز جلد از جلد جاری کر دیے جائیں گے، جس سے پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے جاری کوششوں کو تقویت ملے گی اور اس کے عوام کو ریلیف ملے گا۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے وزیراعظم کو جائزہ لینے کے جاری عمل پر اپنے ادارے کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا، میٹنگ نے اس تناظر میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کا ایک مفید موقع فراہم کیا۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ایاز صادق، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کے علاوہ فرانس میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے اجلاس میں شرکت کی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی دعوت پر 22 اور 23 جون کو ہونے والے نیو گلوبل فنانسنگ پیکٹ (نئے عالمی مالیاتی معاہدے) کے لیے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پیرس پہنچے تھے۔

اس سربراہی اجلاس کا مقصد ’بریٹن وُڈس سسٹم‘ سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک نئے عالمی فنانسنگ آرکیٹیکچر کی بنیاد رکھنا ہے تاکہ بیک وقت موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور ترقی کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور تمام ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے۔