لاہور(ای پی آئی ) نو مئی واقعات میں جناح ہائوس حملہ کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر لاپتہ نوجوان کو بازیاب کر اکے پیش کر دیا گیا ،مجھ پر کیس قسم کا کوئی تشدد نہیں ہوا دوست کے گھر موجود تھا لڑکے کا عدالت میں بیان،

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں لڑکے کی بازیابی کی بنا پر کیس نمٹا دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں جناح ہائوس توڑ پھوڑ حملہ کیس میں ملوث پی ٹی آئی کارکن کے کیس کی سماعت جسٹس امجد رفیق نے کی ۔ ایک ماہ 10 دن بعد بوڑھے ماں باپ کو ان کا جواں سالہ بیٹا مل گیا۔ پولیس نے بچے کوعدالتی حکم پر بازیاب کروا کر لاہور ہائیکورٹ میں پیش کیا۔

عدالت نے ایس پی سکیورٹی کو ہر حال میں بچے کو بازیاب کروانے کا حکم دے رکھا تھا۔عدالت میں ایس پی سکیورٹی اور سی سی پی او لاہور پیش نہ ہوئے۔بازیاب ہونے والے لڑکے نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے دوست کے گھر تھا، مجھ پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔عدالت نے لڑکے کی بازیابی کی بنا پر کیس نمٹا دیا۔

درخواست گزار روبینہ خوشنود نے اپنے بیٹے منیب کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی، ماں اور والد اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ گلفام مسلم رانا نے دلائل پیش کئے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ 9 مئی کے واقعہ کے بعد 16 مئی کو میرے بیٹے کو بغیر کسی الزام کے اٹھا لیا گیا، میرے بیٹے کو رات ڈیڑھ بجے 28 سے 30 افراد اٹھا کر لے گئے، بیٹے کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے، میرا بیٹا آئی ٹی انجینئر ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت درخواست گزار کے بیٹے کو بازیاب کرانے کا حکم دے