اسلام آباد (ای پی آئی ) عدالتی حکم کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کر کے پنجاب پولیس کے حوالے کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی اسلام آباد کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر تسلی بخش قرار دیدیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کی گرفتاری پر توہین عدالت کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیاہے جس میں عدالت نے آئی جی اسلام آباد ناصراکبر کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیدیا ہے ۔

عدالت نے آئی جی کی جانب سے مہلت کی استدعا پر 26 جون تک مہلت دیدی ، عدالت نے شیریں مزاری کو گرفتار کرنے والے انچارج پولیس افسر کا بھی نام طلب کر لیاہے ۔

عدالت کا کہناتھا کہ آئی جی اسلام آباد کا جواب دیکھا ہے لیکن وہ کارروائی ختم کرنے کیلئے تسلی بخش نہیں ہے ، آئی جی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مشاورت کر کے ترمیمی جواب جمع کروانے کی استدعا کی ،

عدالت نے کہا کہ آئی جی کو 26 جون تک جواب جمع کروانے کی مہلت دی جاتی ہے عدالت نے کہاکہ 17 مئی کو شیریں مزاری کو گرفتار کرنے والے پولیس انچارج کا بھی عدالت کو بتایا جائے ، کیس کی مزید سماعت 26 جون تک ملتوی کر دی گئی ۔

تحریری حکمنامہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے جاری کیا ۔