اسلام آباد(ای پی آئی )سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کیخلاف کیس کی پہلی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے

تحریری حکم نامے کے ساتھ نامزد جسٹس فائز عیسیٰ کا ویب سائٹ سے ہٹایا گیا نوٹ بھی جاری کیا ہے۔ ، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ بھی شامل ۔

نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہمیشہ کوشش رہی کہ مقدمے کے ہر فریق کو یکساں نظر سے دیکھوں، کبھی رجسٹرار آفس کو کسی نوعیت کا مقدمہ لگانے یا نہ لگانے کا نہیں کہا۔ ہمیشہ کوشش رہی کہ ہر فیصلہ ایک ہی پیمانے سے آئین و قانون کے مطابق کروں، یہ مقدمہ سنوں تو اپنے آئینی اور قانونی مؤقف کی خلاف ورزی کروں گا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی معطلی کے بعد سے عدالت میں نہیں بیٹھا۔

نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ خود کو سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف مقدمے سے دستبردار نہیں کر رہا، آج دن تک چیف جسٹس نے میرے مؤقف کی تردید نہیں کی، چیف جسٹس نے اپنے ساتھیوں کو بلا وجہ غیر ضروری کشمکش میں الجھا دیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے تو جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا، عدالتِ عظمیٰ جیسا آئینی ادارہ فردِ واحد کی مرضی سے نہیں چل سکتا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا اطلاق چیف جسٹس اور 2 سینئر ججز پر ہوتا ہے۔

نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ میری رائے میں عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے، سینئر ترین جج کی حیثیت سے سمت کو درست رکھنا میرا فریضہ ہے، میں جسٹس طارق مسعود کے مؤقف کا اور وہ میرے مؤقف کا احترام کرتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنے نوٹ میں کہنا ہے کہ جسٹس طارق مسعود نے بھی شروع میں کسی بینچ میں بیٹھنے سے کنارہ کشی اختیار کی، بینچ ایسا ہو کہ کسی کو شک نہ ہو کہ مخصوص فیصلے کے لیے خصوصی بینچ بنا دیا گیا۔ چیف جسٹس کو 17 مئی کو 5 صفحات پر مشتمل جواب ارسال کیا، چیف جسٹس کو جواب میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا ایک بار پھر حوالہ دیا، نشاندہی کی کہ مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل چیف جسٹس اور 2 سینئر ججز پر مشتمل کمیٹی کرے گی، اس قانون پر عمل نہیں کیا گیا کیونکہ عدالتِ عظمٰی نے قانون کو جنم لینے سے پہلے ہی معطل کر دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنے نوٹ میں کہنا ہے کہ میں نے تحریری جواب میں نشاندہی کی کہ اس قانون کے خلاف درخواستیں منظور ہوں گی یا مسترد، اگر درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں تو درمیانی مدت میں عدالت کو چلانا کیا اس قانون کی خلاف ورزی نہیں؟ معزز چیف جسٹس نے مجھے ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے، مخمصے سے اسی وقت نکلا جاسکتا ہے جب اس قانون کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ کریں یا حکمِ امتناع واپس لیں، جو سوال چیف جسٹس نے کیا کہ کب تک چیمبر ورک کرنا چاہتا ہوں] چیف جسٹس ہی بہتر جواب دے سکیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ میں کہنا ہے کہ ایکٹ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس کر رہے ہیں، ان درخواستوں کے حوالے سے خود چیف جسٹس جواب دے سکتے ہیں کہ کب فیصلہ ہو گا، درخواستوں پر فیصلہ کیسے کریں یہ بھی چیف جسٹس کی صوابدید پر منحصر ہے۔ پوری قوم کی طرح میں بھی منتظر ہوں کہ فیصلہ جلد ہو، عدالت کی کارروائی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو رہی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نوٹ میں کہا ہے کہ ملٹری ایکٹ کے تحت ٹرائل سے ملتے جلتے 26 مقدمات عدالتِ عظمیٰ میں پہلے سے دائر ہیں، یہ مقدمات پشاور ہائی کورٹ کے 17 اکتوبر 2019ء کے فیصلوں کے خلاف دائر کیے گئے، پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ انٹرم سینٹرز (قید خانے) سے متعلق قوانین آئین سے متصادم ہیں۔

نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف درخواست گزار نمبر 4 نے سابق وزیرِ اعظم کے دورِ حکومت میں اپیل دائر کی، سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 24 اکتوبر 2019ء کو حکمِ امتناع جاری کیا، وہ حکمِ امتناع کئی سال گزرنے کے باوجود ابھی تک برقرار ہے، اس کی آخری سماعت دسمبر 2019ء میں ہوئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹ میں کہا ہے کہ جب ایک دفعہ کسی مقدمے کی سماعت شروع ہو جائے تو اس کا بلا تاخیر فیصلہ بھی ہوتا ہے، ساڑھے 3 سال گزرنے کے باوجود موجودہ مقدمے سے ملتے جلتے ان 26 مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

اپنے نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ میں روایت رہی ہے کہ بینچ کی تشکیل اور دیگر امور میں سینئر ججز سے مشورہ لیا جاتا تھا، چیف جسٹس گلزار احمد متواتر جسٹس عمر عطاء بندیال سے مشاورت کرتے تھے، ہر آئینی مقدمے میں جسٹس بندیال کو سربراہی دی یا انہیں بینچ کا حصہ بنایا، جب سے جسٹس بندیال نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا سینئر ججز سے مشاورت کی روایت ترک کر دی، نہ مجھ سے، نہ سینئر جج سردار طارق مسعود سے کوئی مشاورت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنے نوٹ میں کہنا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نے تمام ضروری معاملات اپنی مرضی یا چیدہ اہلکاروں کے ذریعے چلائے، ججوں کی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کبھی فل کورٹ اجلاس نہیں بلایا، ججوں کی فل کورٹ میٹنگ تو نہ بلائی لیکن درخواست گزاروں اور ان کے وکلاء کو ترجیح دی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹ کے ساتھ 17 مئی کا چیف جسٹس کو دیا گیا جواب بھی منسلک کیا ہے۔

تحریری حکمنامہ میں جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نوٹ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، بنچ کی تشکیل سے قبل مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی، تعجب ہے ایک دن پہلے ایک درخواست گزار اعتزاز احسن نے چیف جسٹس پاکستان سے چیمبر میں ملاقات کی اور اگلے دن اسی درخواست گزار کی درخواست سماعت کو کیلئے مقرر کردیا گیا۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ بنچ سے تشکیل سے قبل میرے دستیاب ہونے کا بھی نہیں پوچھا گیا، کئی سالوں سے زیر التوا مقدمہ کے سائل یا درخواست کو بھی یہ اجازت حاصل ہوگی کہ وہ چیمبر میں چیف جسٹس سے ملاقات کرکے مقدمہ فکس کروائے؟ میں انتظار میں تھا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس کا جلد فیصلہ کرے گی، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184کی شق تین کے مقدمات کی سماعت کیلئے تین رکنی کمیٹی نے فیصلہ کرنا ہے۔

فیصلے میںجسٹس سردار طارق مسعود نے نوٹ میں لکھا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت تین رکنی کمیٹی کا میں رکن ہوں، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کالعدم قرار دیکر ہی تین رکنی کمیٹی کے طریقہ کار کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، جب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو معطل کیا گیا میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار تھا کہ مقدمات نہ سنوں، میں ایک ایسے بنچ کی سربراہی کر رہا تھا جس میں روزانہ تیس سے پینتیس فوجداری مقدمات سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں اور میرے سامنے ایسے پاکستانی شہریوں کے مقدمات سماعت کیلئے مقرر ہوئے جو جیلوں میں فیصلوں کے منتظر ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ میں نے پاناما فہرست میں شامل 436 افراد کیخلاف کیس اس لیے سنا کہ وہ درخواستیں پانچ رکنی لارجربنچ قابل سماعت قرار دے چکا ہے، میں نے وہ کیس اس لیے ایک ماہ کیلئے ملتوی کیا کہ مجھے توقع تھی پریکٹس اینڈ کیس کا فیصلہ ہو جائے گا۔

نوٹ میں مزیدلکھا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے چاروں درخواست گزار بظاہر نہ حراست میں ہیں نہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، ان چاروں درخواست گزاروں نے نو مئی کے واقعات میں جی ایچ کیو، پی اے ایف اور حساس مقامات پر حملے نہیں کیے، عمومی طور پر کسی قانون کو چیلنج کرنے کا فورم ہائیکورٹ بنتا ہے جبکہ درخواست گزاروں نے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ہر انفرادی شخص کو سن کر درخواست پر علیحدہ فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ میں حیران ہوں کہ نو رکنی بینچ اس مفروضے پر تشکیل دیا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو کالعدم قرار دے دیا جائے،اگر ایکٹ کو کالعدم قرار نہیں دیا جاتا تو متاثرہ فریق کی اپیل پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن پانچ کے تحت لارجر بینچ سنے گا،اس کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل سننے کے لیے کم از کم دس رکنی بینچ کی تشکیل ناممکن نظر آتی ہے،موجودہ صورتحال میں کسی بھی متاثرہ فریق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ناقابلِ سماعت ہوگی۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں بینچ میں بیٹھنے سے انکار نہیں کر رہا،اس لیے میں نے بینچ کی دوبارہ تشکیل کے حکمنامہ پر دستخط نہیں کیے،میرا مؤقف ہے کہ موجودہ کیس کی سماعت سے پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے خلاف کیس کا فیصلہ کیا جائے،اس لیے میں اپنا آزادانہ نوٹ لکھ رہا ہوں۔

عدالتی حکمنامے کے ساتھ جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ میں بینچ میں اپنے کچھ تحفظات کے ساتھ بیٹھا ہوں جنہیں پہلی سماعت پر سامنے لانا چاہتا ہوں،احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ ماضی قریب میں فل کورٹ کی بجائے چند ججز پر مشتمل اسپیشل بینچز تسلسل کے ساتھ تشکیل دیئے گئے، مفاد عامہ کے ان مقدمات کے عوام کی سماجی، سیاسی، معاشی زندگیوں اور بنیادی حقوق پر انتہائی گہرے اثرات ہوتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ’میری رائے میں فل کورٹ تشکیل نہ دینے سے عدلیہ کمزور ہوئی اور اس کے فیصلے بے وقعت ہوئے، موجودہ کیس اور اس کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطحی جوڈیشل سکروٹنی کی ضرورت ہے، عوامی مفاد کے حامل کیسز میں تمام ججز کی اجتماعی دانش سے بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں جن سے سپریم کورٹ پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا‘۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ ’میری رائے میں جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس کا فیصلہ نہیں کرتی آرٹیکل 184(3) کے تمام مقدمات فل کورٹ کو سننے چاہیں، سپریم کورٹ کی سالمیت اور اتھارٹی کے تحفظ کے لیے چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی تھی کہ ملک میں موجود تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ ’چیف جسٹس سے کہا کہ فل کورٹ تشکیل دے کر ہر جج کو فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ کیس سننا چاہتے ہیں یا نہیں، لیکن معزز چیف جسٹس نے میری درخواست کو تسلیم نہیں کیا، اپنے حلف کے تحت آئینی ذمہ داری کی ادائیگی اور عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے بینچ میں بیٹھنے کے علاؤہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔