لاہور (ای پی آئی )مون سون کے طاقتور سپیل کے باعث لاہور میں ریکارڈ موسلا دھار بارش کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کے مطابق 3 افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے، دو افراد گھر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچی سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوئی۔

نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج لاہور میں ریکارڈ موسلا دھار بارش ہوئی ہے جس کی توقع نہیں تھی، ہم نے شہر کی سڑکیں صاف کرنے اور نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے شہر یے مختلف علاقوں میں ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔ لاہور کنال میں تغیانی کے باعث مسلم ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن اور گلبرگ زیر آب آگئے ہیں۔

نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ رات 9 بجے بارش کا ایک اور مرحلہ متوقع ہے اور متعلقہ حکام اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ خود بھی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

قبل ازیں لاہور میں آج صبح سے ریکارڈ موسلا دھار بارش کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش اور درخت گرنے کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (واسا) کے مطابق بارش کے نتیجے میں لاہور کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، خاص طور پر لکشمی چوک پر سب سے زیادہ 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اس کے علاوہ نشتر ٹاؤن میں 277، پانی والا تالاب اور گلشن راوی میں 268 ملی میٹر بارش ہوئی۔

مزید بتایا گیا کہ لاہور کے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر شہر کے علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ جمع ہونے والے پانی جیسے مسائل کو حل کیا جاسکے۔قبل ازیں،

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے مطابق لاہور میں 9 گھنٹے کے دوران ریکارڈ 272 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے، جس کے سبب سڑکوں پر پانی جمع ہوچکا ہے اور اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اراکین اور انتظامیہ فیلڈ میں ہیں تاکہ پانی کی نکاسی کی جاسکے۔

محسن نقوی نے بتایا کہ میں فیلڈ میں ہوں اور صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں، اور مسلسل اپڈیٹس لے رہا ہوں۔

دریں اثنا، وزیراعظم شہبازشریف نے طوفانی بارش پر پنجاب حکومت کو فوری اقدامات کی ہدایت کر دیں۔جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے نگران وزیراعلی پنجاب کو امدادی ٹیموں کو فوری متحرک کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، میونسپل اور متعلقہ اداروں کے اشتراک عمل کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے ضرورت پڑنے پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور وفاقی اداروں کو پنجاب حکومت کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شہریوں کو خبردار کرنے، ٹریفک کے متبادل انتظامات اور نکاسی آب کے لیے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

انھوں نے ہدایت دی کہ دیہی علاقوں میں شہریوں کی بروقت محفوظ مقامات پر منتقلی، مال مویشیوں کو بچانے اور اربن فلڈنگ سے بچاؤ کے لیے فوری اور ضروری اقدامات تیز کیے جائیں۔

شہباز شریف نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا سمیت تمام پہاڑی علاقوں کی انتظامیہ کو بھی متحرک کرنے کی ہدایت کردی۔