اسلام آباد(ای پی آئی ) متروکہ وقف املاک کی اراضی کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نےشہری کی نظرثانی اپیل خارج کردی ،
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ملک میں قانون ہے کوئی بادشاہت نہیں،ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،قوانین، قواعد جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں، موجودہ کیس میں وزیر کااختیار تھا نہ قانونی طریقہ کار اپنایا گیا۔
سپریم کورٹ میں متروکہ وقف املاک کی اراضی سے متعلق شہری کی نظرثانی اپیل پر سماعت ہوئی،کیس کی سماعت جسٹس اعجاز االاحسن اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔وکیل منیر پراچہ نے کہاکہ میرے نظرثانی کیس میں ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے،
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آج ایشو کو حل کرنا ہے،وکیل نے کہاکہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ میں صرف دو شقوں میں 184 (3)کا ذکر ہے،ایکٹ کی دیگر شقیں تمام نظرثانی مقدمات پر لاگو ہوں گی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ایکٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ اپیل میں آنے والے مقدمات پر بھی لاگو ہو گا، بتائیں دیگر شقوں میں 185کے اطلاق کا کیوں نہیں لکھا گیا؟قانون بنانے کا مقصد بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
عدالت نے کہاکہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق 184تین کے مقدمات کیلئے ہے، متروکہ وقف املاک نظرثانی کیس میں وکیل کے ایکٹ اطلاق سے متعلق تمام اعتراضات مسترد کر دیئے گئے۔
جسٹس عائشہ ملک نے نے ریمارکس دیئے کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا تعلق 184 (3)کے علاوہ مقدمات پر نہیں ہوتا،
جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل کو ہدایت کی کہ کیس کے میرٹ پر دلائل دیں،وکیل نے کہاکہ وفاقی وزیر کے پاس متروکہ وقف املاک کی جائیداد الاٹمنٹ کا حق نہیں تھا،
جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ سوشل ویلفیئر کا وزیر کیسے متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کر سکتا ہے، آپکی دلیل مان لی تو پھر وفاقی حکومت کا ڈرائیور بھی متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کر سکے گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کا ہر وزیر یوں زمین کی الاٹمنٹ کر سکتا ہے؟ملک میں قانون ہے کوئی بادشاہت نہیں،ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،قوانین، قواعد جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں، موجودہ کیس میں وزیر کااختیار تھا ناقانونی طریقہ کار اپنایا گیا۔
سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک کی اراضی سے متعلق شہری کی نظرثانی اپیل خارج کردی ، 22مارچ 1977کو اس وقت کے وفاقی وزیر نے زمین شہریوں کو الاٹ کرنے کی منظوری دی تھی ،زمین الاٹمنٹ کے خلاف متروکہ وقف املاک نے عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔


