راولپنڈی(ای پی آئی) سربراہ عوامی مسلم لیگ اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آنے والے الیکشن میں حساب اور احتساب ہوگا ۔ قیامت سے پہلے حکومت پر سیاسی قیامت ٹوٹے گی ۔

شیخ رشید نے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی منظوری سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ قرضہ اس وقت ملا جب مہمان اداکاروں کا کھیل ختم ہونے والا تھا اور معاہدے کا آخری دن تھا۔ ایک سال ضائع کیا،

انھوں‌نے کہا کہ یہ کہتے تھے ہمارے پاس پلان بی اور سی ہے۔ حقیقت میں ان کے پاس کوئی پلان نہیں تھا۔ سعودی عرب اور یو اے ای نے 3 ارب ڈالر کسی اور کے منہ اور کہنے پر دیئے ۔ ان کے کہنے پر 5 ڈالر کوئی خیرات نہیں دیتا ۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ جس ملک جاتے ہیں لوگ کہتے ہیں وہ آئے بھیک مانگنے والے ۔ شہباز شریف تقریری مقابلے پر نکلا ہوا ہے، دِن میں آدھا درجن تقریریں کرتا ہے اور آدھا درجن تصویریں کھنچواتا ہے۔ 15 مہینے میں نتیجہ صرف آئی ایم ایف کے 1 ارب ڈالر کی پہلی قسط کا قرضہ ہے۔ دنیا اور آئی ایم ایف جمہور کی آواز کا احترام کرتی ہے اور قرضے کی 3 قسطوں کی بنیادی وجہ الیکشن کی یقین دہانی ہے ۔

شیخ رشید احمد کا مزید کہا تھا کہ بجلی، گیس مہنگی اور سبسڈی ختم، غریب پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھے گا ۔ نہ ایکسپورٹ ہے نہ ترسیلات ہیں۔ کارخانے چل نہیں رہے، گروتھ صفر ہے ۔ اوورسیز ناراض ہیں۔ادائیگیاں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر سے 6گنا زیادہ ہو گئی ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ زرداری نے خاموشی تانی ہے، بلاول کی امریکی یاترا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ فضل الرحمن بھی بیزار ہے۔ یہ کہتے ہیں سیاست نہیں بچائی ریاست بچائی ہے حالانکہ انہوں نے اپنے آپ کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسوں سے بچایا ہے۔