اسلام آباد (ای پی آئی )پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ،
انٹیلی جنس بیورو کے آڈٹ اعتراضات کے معاملے پر ہونے والے اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کا کہنا تھا ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) آج اجلاس میں نہیں آئے میرا شناختی کارڈ نمبر، پتا اور دیگر معلومات ویب سائٹس پر ہیں،
ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی بی کی عدم حاضری میں ہرگز آڈٹ اعتراضات کا جائزہ نہیں لوں گا،’ڈی جی آئی بی کا کام تو فون ٹیپنگ ہوتا ہے، یا یہ چیک کرنا کہ میری لوکیشن کیا ہے۔۔
ڈپٹی ڈی جی آئی بی نے اجلاس کو بتایا کہ امن و امان کے حالات کے باعث ڈی جی آئی بی اجلاس میں نہیں آسکے، جس پر نور عالم خان کا کہنا تھا یہاں فوجی آتے ہیں جن کے جوان بارڈر پر شہید ہوتے ہیں،
آئی بی کا پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر ہی پی اے سی میں آسکتا ہے، ڈپٹی ڈی جی آئی بی کو کمیٹی میں قبول نہیں کروں گا۔
نور عالم خان کا مزید کہنا تھا میرا فون نمبر، پتا اور دیگر معلومات ویب سائٹس پر موجود ہیں، نادرا کی تو انکوائری شروع کر دی ہے کہ ریکارڈ کیسے باہر گیا،
چیئرمین پی ٹی اے تو ہماری معلومات کو ویب سائٹس سے بلاک کریں ، ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو (نیب) نادرا ریکارڈ لیک کی تحقیقات کر رہا ہے، کچھ لوگوں کو تو جیل جانا ہو گا۔


