اسلام آباد (ای پی آئی ) سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے سائفر معاملے کو سوچی سمجھی سازش قرار دیدیا ۔
تفصیل کے کے مطابق سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کروا دیاہے ۔ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ اعظم خان نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیدیا ہے ، ان کا بیان میں کہناتھا کہ سائفر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا،
سائفر کا ڈرامہ سیاسی مقاصد کیلئے رچایا گیا ۔یاد رہے کہ اعظم خان سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری تھے ۔
اعظم خان نے کہا کہ سائفر کے معاملے پر تمام کابینہ ارکان کو ملوث کیا گیا اور تمام لوگوں کو بتایا گیا کہ سائفر کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے،
سائفر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، سائفر کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، یہ ڈرامہ پری پلان بنایا گیا تھا۔
اعظم خان نے بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے تمام تر حقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا، تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دیا گیا۔
اعظم خان کے بیان کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا۔
اعظم خان نے بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر مجھ سے 9 مارچ کو لے لیا اور بعد میں گم کر دیا،
چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر ڈرامے کے ذریعے عوام میں ملکی سلامتی اداروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا، منع کرنے کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکریٹ مراسلہ ذاتی مفاد کے لئے لہرایا۔ 8 مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے اعظم خان کو سائفر کے بارے میں بتایا،
شاہ محمود قریشی سابق وزیراعظم کو سائفر کے متعلق پہلے ہی بتا چکے تھے لیکن سابق وزیرا عظم نے سائفر کو اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ بنانے کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا،
سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھ لیا جو کہ قانون کی خلاف ورزی تھی، سائفر واپس مانگنے پر چیئرمین پی ٹی آئی نے اس کے گم ہونے کا بتایا۔


