راولپنڈی (ای پی آئی )القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کی جانب سے طلب کرنے پر سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹر ی اعظم خان نے نیب آفس راولپنڈی میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروا دیا ہے ۔

نیب نے اعظم خان کو آج صبح دس بجے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بیان ریکارڈ کروانے کیلئے طلب کیا تھا ، اعظم خان آج نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کروانے کے بعد روانہ ہو گئے ہیں ۔اعظم خان سے القادر ٹرسٹ کیس میں پوچھ گچھ کی گئی ۔

ذرائع کے مطابق اعظم خان نے اپنے بیان میں 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق پہلے سے موجود دستاویزات کی تصدیق کی اور بتایا کہ پیسے کس طرح ادا کیے گئے۔ اعظم خان نے تصدیق کی کہ جو رقم پاکستان کے اکاؤنٹ میں آئی ان سارے معاملات میں وہ عینی شاہد ہیں، انھوں نے بہت چیزوں کو دیکھا ہے، عمران خان بھی اس حوالے سے ہدایات دیتے رہے۔

اعظم خان نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے کابینہ اجلاس کے لیے جو سمری تیار ہوئی جس کی منظوری کابینہ نے دی اس کی تیاری میں شہزاد اکبر کا بنیادی کردار تھا، سمری پیش کرنے سے پہلے بھی ایک میٹنگ ہوئی جو عمران خان کے ساتھ ہوئی تھی اس میں شہزاد اکبر بھی موجود تھے ۔

ذرائع نے بتایا کہ اعظم خان نے نیب کے سامنے کابینہ اجلاس کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالوں کے بھی جواب دیے اور سمری کے حوالے سے میٹنگز کا احوال بھی نیب ٹیم کو بتایا۔

ذرائع کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اعظم خان نے عمران خان کے دعوؤں کے برعکس بیان دیا ہے اور بتایا کہ کس کس موقع پر عمران خان نے اس حوالے سے ہدایات جاری کیں جب کہ شہزاد اکبر بھی رقم کے حوالے سے مشاورت کرتے رہے،

اس حوالے سے کابینہ میں سمری پیش کرنے کا فیصلہ عمران خان کی منظوری سے ہوا۔