لاہور(ای پی آئی)لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری سے جیل میں ملاقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،

پنجاب حکومت کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ درخواست گزار اعجاز چوہدری کا وکیل نہیں ہے جب تک وہ اعجاز چوہدری کے وکیل نہیں بن سکتے تو ملاقات کی اجازت نہیں مل سکتی،

جسٹس شجاعت علی خان نے وکیل آصف جاوید بٹ کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعجاز چوہدری سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی اعجاز چوہدری جیل میں مختلف مقدمات میں قید ہیں ،

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعجاز چوہدری مختلف مقدمات میں کیمپ جیل میں قید ہیں اعجاز چوہدری سے رشتے داروں۔ اور انکی لیگل ٹیم کو ملنے نہیں دیا جارہا،

ملزم سے ملاقات کے لیے جیل رولز بھی اجازت دیتے ہیں موقف جیل سپرنٹینڈنٹ اور ہوم سیکرٹری ملاقات نہیں کرنے دے رہے ،ایسا اقدام نہ کرنے سے اعجاز چوہدری کے بنیادی حقوق کی خلاف وزری ہورہی ہے،

عدالت درخواست کو منظور کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو ملاقات کا حکم دے ۔