اسلام آباد (ای پی آئی )بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پلاننگ کمیشن میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا،
جنیوا ڈونرز کانفرنس میں 10.9 ارب ڈالرز کی امداد کا وعدہ کیا گیا تاہم پاکستان کو عالمی امداد کا ایک بہت کم حصہ ملا۔
رپورٹ میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سماجی بے چینی اور سیاسی تناؤ بڑھا جبکہ عوام کے معیارِ زندگی میں تنزلی ہوئی۔
اس ضمن میں پلاننگ کمیشن کےحکام کا کہنا ہے کہ 4 سے 5 ارب ڈالرز کے منصوبے تیار ہیں، فنڈنگ کے منتظر ہیں، تعمیرِ نو کے لیے 16.8 ارب ڈالرز درکار ہیں، ہاؤسنگ، زراعت اور ٹرانسپورٹ ترجیح قرار دیے گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کو 2024ء کے اختتام تک نیشنل اڈاپٹیشن پلان تیار کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ 10 ملکوں میں شامل ہے۔


