اسلام آباد(ای پی آئی ) توشہ خانہ کیس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامرفاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تین اپیلوں پر سماعت کی۔دستاویزات طلبی کی استدعا مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
وکیل کے دلائل کے بعد توشہ خانہ فوجداری کیس سننے والے جج پر چیئرمین پی ٹی آئی کے اعتراض کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج کی فیس بک پوسٹ کی بنیاد پر کیس ٹرانسفر کی درخواست کی گئی ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ میں نے پوسٹ سے متعلق نہیں دیکھا، خواجہ حارث نے کہا کہ یہ آپ ضرور دیکھ لیجئے گا،ایف آئی اے کے پاس تو پورا سیل ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ وہ ٹھیک ہیں یا غلط دونوں صورتوں میں اپنے اثرات ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ دو تین دنوں کی بات ہے جو بھی ہو وہ کلئیر ہو جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر جو کچھ ہو رہا بدقسمتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے مزید کہا کہ 21جولائی کو جولائی کو جرح کے دوران آرڈر ہوا تھا اسے چیلنج کیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیشن کورٹ کا آرڈر اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پر جرح کے دوران دستاویزات طلبی کی استدعا کی گئی تھی۔
خواجہ حارث نے کہا کہ گواہ پر جرح کے دوران ہمارا اعتراض تھا توشہ خانہ پروسیڈنگز کا ریکارڈ منگوائیں کیونکہ کیس میں الیکشن کمیشن کی توشہ خانہ کارروائی ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں الیکشن کمشن کے سامنے توشہ خانہ کیس کی جو پروسیڈنگز ہوئیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ جی ہاں توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمشن کے سامنے جو کارروائی ہوئی وہ دی جائے، استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
خواجہ حارث نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی تھی، الیکشن کمیشن نے کارروائی کے دوران مختلف توشہ خانہ کی تفصیلات طلب کیں، یا تو ہمارا اعتراض منظور کرکے ریکارڈ طلب کیا جانا چاہئے تھا، یا پھر الیکشن کمیشن کی تمام کارروائی مقدمے سے علیحدہ کی جانی چاہئے تھی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہونا تو یہ چاہئے جو بھی اعتراضات ہوں اس پر فیصلہ ہونا چاہئے، وکیل نے کہا کہ ہمارے خلاف جب ریکارڈ استعمال ہو رہا ہے تو پھر اسے طلب بھی کرنا چاہئے، آدھی بات تو گواہ بتا رہا ہے باقی نہیں بتا رہے کہ کارروائی کیا ہوئی؟
عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے مکمل ریکارڈ یا اس کا کچھ حصہ طلب کرنے کا کہا تھا؟ وکیل کا کہنا تھا کہ ریفرنس سے لیکر فیصلے تک کا ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کی تھی، الیکشن کمشن کا آرڈر چیلنج نہیں کررہے ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا ہے۔
شکایت اور بیان حلفی پر گواہ کے دستخط مختلف ہونے کے خلاف درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ گواہ سے سوال ہوا کہ کیا بیان حلفی اور شکایت پر آپکے دستخط مختلف ہیں؟
الیکشن کمیشن کے گواہ نے اعتراف کیا کہ اس کے دستخط مختلف ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں گواہ نے جرح کے دوران جو کہا اس کی وضاحت کرے؟ وکیل کا کہنا تھا کہ جی بالکل اس نے وضاحت دینی ہے یا پھر وہ جھوٹ بول رہا ہے ، میرا سارا کیس یہ ہے کہ یہ بدنیتی پر بنایا گیا کیس ہے جو بنتا ہی نہیں ۔


