اسلام آباد(ای پی آئی ) سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور محمد فیصل واوڈا نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ معصوم بچی پر تشدد کرنے والے سول جج کی بیوی کے خلاف آخر کارایف آئی آر درج ہو گئی،

لیکن شرم کی بات ہے کہ نہ حکومت حرکت میں آئی نہ کورٹ نے کوئی نوٹس لیا اور نہ ہی کسی کا مذمتی بیان آیا، چاہے وہ پی ڈیم کی 13 حکمران جماعتیں ہوں یا پی ٹی آئی۔

انھوں نے کہا کہ جو بچی کا حال ہے یہی حال پاکستان کا ہے، دونوں کے ذمہ دار وہی حکمران ہیں جنہوں نے پہلے بھی اس ملک کا یہ حال کیا اور آج بھی یہ حال کر رہے ہیں اور آگے بھی یہی کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ جن تمام سیاستدانوں کے اپنے فریم ٹیڑھے ہیں وہ ملک کا فریم کیا سیدھا کریں گے، جو خود کھڑے نہیں ہو سکتے وہ ملک کو کیا کھڑا کریں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کا بہترین قانون انصاف دیتا ہے یا اس سول جج کی بیوی کو ضمانت قبل از گرفتاری یا ایک گھنٹے کے بعد ضمانت۔

فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ سول جج کے اپنے من گھڑت اور مبینہ جھوٹے بیانات جو جرم کو چھپانے کے مرتکب ہیں اس پر قانون کیوں حرکت میں نہیں آتا؟ اس بچی کو اپنی بیٹی سمجھ کر مجرموں کو جلد از جلد سخت سزا دی جائے۔

فیصل واوڈا نے اپنے ٹویٹ کے ہمراہ سول جج عاصم حفیظ کی بیوی سومیہ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کی کاپی بھی شیئر کی ہے۔