اسلام آباد (ای پی آئی )فیصل مسجد پارکنگ میں قلفی بیچنے والے ریڑھی بان فرمان اللہ کی ضمانت منظور فوری رہا کرنے کا حکم فریقین کو نوٹسسز جاری کرکے جواب طلب کرلیا،
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی درخواست گزار کی جانب بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی عدالت پیش ہوئے دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بنیادی الزام لگایا گیا کہ بغیر لائسنس کے ریڑھی لگائی گئی، جس پر عدالت کی جانب سے اسفسار کیا گیا کہ کیا چارج فریم ہوا ہے ؟
بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے جواب دیا کہ ابھی تک کوئی چارج فریم نہیں ہوا، چالان جمع ہوا ہے میرے موکل کو مجرم قرار دیا گیا جو کہ انہوں نے مانا کہ میں ریڑھی لگاتا ہوں،
درخواست گزاراپنے گھر کو چلانے کے لئےفیصل مسجد کی پارکنگ میں ریڑھی لگاتا ہے پورے شہر میں تجاوزات کون کررہے ہیں پورے شہر کو معلوم ہے،
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کون لوگ ہیں جو ایسا کرتے ہیں ؟قانون کی بات کریں، کیوں کہ ابھی تک چارج فریم ہی نہیں ہوا،سزا معطل کرنے کے لئے چارج فریم کا ہونا ضروری ہے، اگر چارج فریم ہو تو ہی یہ عدالت شوکاز نوٹس جاری کرسکتی ہے،
عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ کیا درخواست گزار ابھی جیل میں ہے یا ضمانت پر ہے؟
درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ تاحال جیل میں ہے، ٹرائل کورٹ سے کوئی ریلیف نہیں ملا،
جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نےمجسٹریٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے قلفی فروش فرمان اللہ کی ضمانت منظور کر لی اور فوری رہا کرنے کا حکم دیدیا
بعد ازاں درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ قانون کی بالادستی کا نہیں ہےریڑھی لگا کر رزق کمانا جرم نہیں فرمان اللہ کے خلاف کسی کی کوئی گواہی نہیں تھی سٹے آرڈر یا حکم امتناعی کی صورت میں فوری طور پر رہائی کا حکم دیا گیا ہے
فرمان اللہ اگر ریڑھی لگا سکتا تو اس کے گھر کی یہ حالت نہ ہوتی


