لاہور (ای پی آئی) لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود قرآن پاک کے ترجمے میں تحریف اور قرآن بورڈ کی اجازت کے بغیر چھاپنے کے خلاف مقدمہ میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور نگران وزیر اعلی پنجاب پیش نہ ہوئے عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے سماعت چار بجے تک ملتوی کردی

جسٹس شجاعت علی خان نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت کے روبرو پیش ہوئے

تاہم نگران وزیراعظم اور نگران وزیراعلی پنجاب اور اٹارنی جنرل پیش نہ ہوئے.

اس دوران عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں لا افسران بتائیں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پیش ہوں گے یا پالیسی بیان دیں گے؟

عدالت نے سماعت چار بجے تک ملتوی کی تو وفاقی حکومت کے وکیل طاہر کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہم عدالت کے حکم پر عمل درآمد کریں گے۔عدالت کا کہنا تھا کہ اتنے سالوں سے آپ کچھ کر نہیں سکے ۔

یہ بھی پڑھیں، نگران وزیراعظم ، وزیراعلی پنجاب کی کل لاہورہائیکورٹ میں طلبی کا تحریری حکم

وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ مجھے ہدایت لینے کے لیے مہلت دی جائے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نگران وزیراعظم سے ملنے اسلام آباد گئے ہیں

اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعلیٰ صرف سڑکوں عمارتوں کے افتتاح کرتے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت مشترکہ کمیٹی بنا رہے ہیں. اس پر عدالت نے کہا کہ آپ صرف وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ مجھے جواب کے لیے مہلت دی جائے۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ میں نے ڈی جی ایف آئی اے اور سیکورٹی فورسز سے بات کی ہے۔ عدالت کے حکم پر عمل درآمد کریں گے ۔

تاہم عدالت نے تمام استدعائیں مسترد کرتے ہوئے سماعت چار بجے تک ملتوی کردی.