اسلام آباد (ای پی آئی) قومی احتساب بیورو(نیب )کافیڈرل پبلک سروس کمیشن سے مقابلے کا امتحان پاس کرکے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز (نیب) سلیکٹ ہونے والوں کو ورک لوڈ میں کمی کابہانہ بنا کرآفرلیٹر دینے سے انکار ، نیب نے کمیشن کی تقرریوں کو منسوخ کرنے کی سمری صدرکو بھجوا دی ،نئی من پسند تقرریوں کیلئے نیااشتہار جاری ، ڈیپوٹیشن پردیگر اداروں سےلوگ منگوالئے گئے۔ کامیاب 13امیدواروں نے بھی داد رسی کےلئے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو خط لکھ دیا ۔
کامیاب امیدواروں کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہاگیاہے کہ سپریم کورٹ نے 2017میں حکم دیا تھاکہ نیب میں تمام تقرریاں فیڈرل سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں جس پرفیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نیب میں 55اسسٹنٹ ڈائریکٹرزکی بھرتی کا اشتہار دیا گیا۔ستمبر 2020میں کمیشن نے ٹیسٹ لے کر 25اکتوبر2021کوامیدواروں سے دستاویزات طلب کیں۔ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد میرٹ پر آنے والے کامیاب امیدواروںکا سائیکلاجیکل ٹیسٹ لیا گیا اس طرح نومبر2022میں 54کامیاب امیدواروں کی فہرست شائع کی گئی ۔
خط کے متن میں صدر کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نیب کی طرف سے 54 کامیاب امیدواران کوآفر لیٹرزجاری کردیئے گئے ان 54امیدواران میں سے چودہ کامیاب امیدواروں نے نیب کو جوائن نہیں کیا جس پر نیب نے 20فروری 2023کو خط لکھ کر مزید چودہ کامیاب امیدواروں کی ڈیمانڈ کی جس پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اپنی پریس ریلیز کے ذریعے مزید 13کامیاب امیدواروں کی فہرست جاری کی ۔
صد کولکھے گئے خط میں موقف اپنایاگیا ہے کہ تقرریوں کے جاری عمل کے دوران چیئرمین نیب کی تبدیلی کے بعدنو تعینات چیئرمین نے ایف پی ایس سی کی سفارشات کو معطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے موقف اپنایاکہ نیب قانون میں ترامیم کے باعث ادارے میں کام کم ہوچکا ہے اس لئے چیئرمین نے دومرتبہ خط کے ذریعے کمیشن سے ان آسامیوں کوختم کرنے کےلئے قانونی رائےطلب کی تاہم ایف پی ایس سی نے دونوں مرتبہ ایسٹا کوڈ قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا کہ انٹرویوزکے بعد آسامیاں معطل نہیں کی جاسکتیں کیونکہ ان آسامیوں پرتقرر ی کی سفارشات نیب کی ڈیمانڈپر کی گئیں لہٰذا ایف پی ایس سی نیب کی اس درخواست کو قبول نہیں کرسکتا۔ ایف پی ایس سی نے تجویز دی کہ نیب ان کامیاب افسران کو آفر لیٹرزجاری کرے۔
خط میں موقف اپنایاگیا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہواہے کہ کسی ادارے نیب نے ایف پی ایس سی کی سفارشات کو معطل کرنے کیلئے صدرکوسمری بھجوائی ہے، یہ سمری نیب قانون میں ترامیم کالعدم ہونے کے بعد 27ستمبر2023کوبھجوائی گئی ہے سمری میں حقائق سے منافی موقف اپنایاگیاہے کہ نیب آرڈیننس میں ترامیم کے باعث ادارے میں کام کم ہوچکا ہے اس بنیاد پر یہ تقرریاں منسوخ کی جائیں۔امیدواروں نے صدر کوخط میں یہ موقف بھی اپنایاہے کہ اگر ادارے کو افراد کی ضرورت نہیں تھی تواب نئی تقرریوں کیلئے اشتہار کیوں دیا گیااور ادارے میں ڈیپوٹیشن پر دیگر اداروں سے لوگ کیوں لئے گئے ہیں؟
خط میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ نیب کے موجودہ موقف کے برعکس ایف پی ایس سی سے پاس ہونے والے جن 40افراد کی خدمات پہلےنیب نے لی ہیں ان کوبھی نیب قانون میں ترامیم کے بعد ہی آفرلیٹر جاری کئے گئے ایک ہی بیچ کے امیدواروں کے ساتھ امتیازی سلوک آئین کے آرٹیکل 25کی خلاف ورزی ہے۔
خط میں کہاگیا ہے کہ اگر نیب ایف پی ایس سی کی سفارشات معطل کرانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ ایک نظیر قائم ہوجائے گی جس کی وجہ سے میرٹ پر تقرریاں کرنےوالے واحد ادارے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی اہمیت ختم ہوجائے گی ۔
امیدواروں نے صدر مملکت سے درخواست کی ہے کہ نیب کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کو مسترد کرکے نیب کو ہدایت کی جائے کہ ان 13کامیاب امیدواروں کو آفرلیٹرزجاری کئے جائیں۔


