اسلام آباد ہائیکورٹ سے صحافی ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ آگیا،
عدالت نے معروف صحافی حامد میر کی پیٹیشن پر کیا ہدایات جاری کیں؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن تشکیل کا حکومت کو حکم دینے کی استدعا مسترد کر دی. جسٹس انعام امین منہاس نے فیصلہ دیا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ از خود نوٹس کیس میں زیرسماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ مداخلت سے گریز کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا حکم نہیں دے گی، صحافی حامد میر کی درخواست نمٹا دی گئی۔۔
جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تفصیلات جانئے اسد ملک کے اس وی لاگ میں
یاد رہے کہ 26اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیاتھا جو آج سنایا گیا ہے۔
دوران سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دئیے تھے کہ ایک معاملہ جب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس سے متعلق ہائیکورٹ کیسے کوئی فیصلہ دے سکتی ہے؟
جسٹس انعام امین منہاس نے سینئر صحافی حامد میر، ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق اور جوڈیشل ایکٹوزم کے محمد اظہر صدیق کی درخواستوں کی سماعت مکمل کی تھی۔ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر اپنے وکیل شعیب رزاق کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
بیرسٹر شعیب رزاق نے کہا کہ ہم نے یہ جاننا ہے کہ کن حالات میں 16 ایف آئی آرز ہوئیں اور ارشد شریف نے پاکستان چھوڑا، ارشد شریف نے اپنے دوستوں کو میسج پہنچایا کہ پاکستان واپس آرہا ہوں جس کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ استدعا ہے کہ ارشد شریف قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور کمیشن کو تحقیقات کیلئے کینیا بھیجا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے بعد یہ کیس سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔