اسلام آباد (ای پی آئی) وفاقی حکومت نے صوبائی تعاون سے غیرقانونی سگریٹس کی فروخت کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے ۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے غیرقانونی سگریٹس کی فروخت پر تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں ملک بھر میں غیرقانونی سگریٹس کی فروخت کیخلاف ایکشن کریں گی،
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو 2 سو ارب روپے کا سالانہ نقصان تمباکو کے شعبے سے ہوتا ہے، ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو کنٹرول کرنا ہو گا،
وزیرمملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ غیرقانونی فروخت سے دستاویز معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔
غیر قانونی شعبہ ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ وزیر اعظم خود مختلف شعبوں کے ٹیکس کے معاملات پر نظر رکھتے ہیں،
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سیگریٹ کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریک سسٹم پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے، حکومت نے ایکشن لیا اور غیرقانونی سیگریٹس بنانے والی فیکٹریوں کو بند کیا،
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سیگریٹ بیچنے والے ریٹیلرز پر چھاپے مارے جاتے ہیں، صوبائی حکومتوں سے مل کر غیر قانونی برانڈز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تمام کارروائیوں کا مقصد ایف بی آر ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا ہے،
ڈائیریکٹر انڈسٹری کنسلٹنگ، آکسفورڈ اکنامکس، انگلینڈ اینڈریو لوگان نے انکشاف کیا کہ
غیر قانونی سگریٹ سے ملکی معیشت کو سالانہ 3 سو ارب سے زائد نقصان ہورہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فروخت ہونے والے 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی ہیں، 2025 کے دوران پاکستان میں 5•43 ارب غیر قانونی سگریٹ فروخت ہوئے، 2025 میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت سے معیشت کو 274 تا 343 ارب کا نقصان ہوا،
رپورٹ کے مطابق 2024 میں غیر قانونی سگریٹ کا 64 فیصد مارکیٹ شیئر مقامی کمپنیز کا تھا، مالی سال 2022 اور 2023 میں سگریٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی میں 107 فیصد اضافہ کیا گیا ۔
رپورٹ کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی میں شدید اضافے سے ملک میں غیر قانونی سستے سگریٹ کی فروخت میں اضافہ ہوا۔سگریٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی اضافے سے ٹیکس ادا کرنے والے قانونی سگریٹ کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانونی سگریٹوں کی قیمت میں اضافے سے صارفین سستے ، سمگل اور بغیر ٹیکس ادا کردہ مقامی سگریٹوں پر منتقل ہوئے۔ مالی سال 2022 اور 2023 میں سگریٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی میں بےتحاشا اضافہ پالیسی بری طرح ناکام ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 43.5 ارب غیر قانونی سگریٹ، برازیل میں 37.7 ارب، فرانس میں 18.9 ارب، جرمنی میں 15.7 ارب غیر قانونی سگریٹ فروخت ہوئے ۔


