اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈیجیٹل انصاف کی فراہمی کا آغاز کرنے سے متعلق اعلامیہ جاری کیا ہے،

ترجمان عدالت عظمی ڈاکٹر شاہد حسین کمبویو کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ شفاف، قابلِ رسائی اور عوام دوست نظامِ انصاف کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنے عدالتی نظام میں کامیابی سے ضم کر لیا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر میں انصاف کی فراہمی کے طریقہ کار کو نئی جہت دی گئی ہے۔

ڈیجیٹل جدت سے استفادہ کرتے ہوئے عدالت نے کثیر المقامی سماعتوں کا مؤثر نظام فعال کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف شہروں میں موجود بینچز، وکلاء اور سائلین جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر عدالتی کارروائی میں شریک ہو رہے ہیں۔ ایک حالیہ اہم سماعت میں بینچ پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں موجود تھا، جبکہ وکلاء نے بیک وقت کوئٹہ، حیدرآباد اور کراچی سے شرکت کی، جس سے کارروائی بلا تعطل جاری رہی اور تمام فریقین کی مساوی شرکت یقینی بنی۔

ادارہ جاتی استعداد کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت نے رواں ہفتے بینچ کی تشکیل میں اچانک تبدیلی کے باوجود فوری طور پر خود کو ہم آہنگ کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اسلام آباد سے سماعت کی صدارت کی، جبکہ معزز جسٹس عائشہ اے ملک لاہور سے بینچ میں شریک ہوئیں، جس سے عدالتی کارروائی بغیر کسی تعطل کے جاری رہی۔

اس تبدیلی کو مزید مستحکم کرتے ہوئے آج کا مکمل عدالتی ڈوکیٹ اسلام آباد میں موجود بینچ نے سنا، جبکہ وکلاء اور فریقین کوئٹہ سے پیش ہوئے، جو ایک مکمل فعال اور ٹیکنالوجی پر مبنی عدالتی نظام کا عملی مظہر ہے۔

یہ کارروائیاں اس اعتبار سے بھی اہم ہیں کہ ان کے ذریعے روایتی کاغذی پیپر بکس پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سماعتوں کے دوران مکمل ڈیجیٹل کیس فائلز استعمال کی گئیں، جس سے برانچ رجسٹریز سے ریکارڈ منگوانے کی ضرورت ختم ہوئی اور کارکردگی، رفتار اور شفافیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

سپریم کورٹ کی اصلاحات وسعت اور مؤثریت دونوں پہلوؤں کی عکاس ہیں۔ مقدمات کے ریکارڈ کو محفوظ اور مؤثر انتظام کے لیے ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے، کیسز کی شفاف نگرانی کے لیے بارکوڈنگ متعارف کرائی گئی ہے، ای فائلنگ کے ذریعے مقدمات کے اندراج کو آسان بنایا گیا ہے، عدالتی احکامات کی فوری ترسیل کے لیے الیکٹرانک نظام فعال کیا گیا ہے، سائلین کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نافذ کیا گیا ہے، ویڈیو لنک سماعتوں کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ ای آفس سسٹم کو بھی وسیع ڈیجیٹل تبدیلی کے ایک اہم جزو کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔

یہ اصلاحات روایتی عدالتی طریقہ کار سے ایک جدید، متحرک اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی جانب واضح منتقلی کی علامت ہیں، جس میں رسائی، کارکردگی اور شفافیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ جغرافیائی اور انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے اور مختلف مقامات سے فوری شرکت کی سہولت کے ذریعے عدالت انصاف کو زیادہ جامع، مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنا رہی ہے