اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام‌آباد ہائیکورٹ نے ملتان سکھر موٹروے پر بھونگ انٹر چینج کی تعمیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کرنے کی درخواست پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا ہے..

جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی عدالت نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر حکام جواب دیں کہ انٹرچینج کی تعمیر کے لیے جتنے فنڈز چاہییں اتنے جاری کیوں نہیں کئے ؟

درخواست گزار رئیس منیر احمد خان کے وکیل وقار رانا عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ مجھے پتہ ہے یہ کیس آپ کے دل کے بہت قریب تھا ،
جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے اسٹنٹ اٹارنی جنرل سےاستفسار کیا کہ یہ دسمبر کے بعد لگا کیوں نہیں ؟ یہ ہر تین ہفتے کے بعد فکس نہیں ہوتا تھا ؟ جسٹس ثمن رفعت امتیاز اسٹنٹ اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ جی اے جی صاحب کوئی تحریری طور پر آیا ہے ؟

اس پر این ایچ اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے بھونگ انٹر چینج کے حوالے رپورٹ جمع کروائی ہے منسڑی آف کمیونیکشن نے 400 ملین منظوری دے کر وزارت خزانہ کو خط لکھ دیا ہے اور ان وزارت خزانہ کے جواب کا انتظار ہے.

درخواست گزار کے وکیل کاکہنا تھا کہ وزارت مواصلات کی جانب سے مانگے گئے فنڈز پی ایس ڈی پی فنڈز ہیں،

فاضل جج نے این ایچ اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ بھونگ انٹر چینج کیلئے فنڈز دینے کا کوئی دستاویزات لائے ہیں .
وکیل نے جواب دیا کہ 400 ملین بھونگ انٹرچینج کیلئے رکھے ہیں اس پر وکیل رانا وقار نے کہاکہ ساڑھے چار ارب روپے پورے پاکستان کے منصوبوں کیلئے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ وکیل این ایچ اے نے کہاکہ اس مجموعی رقم میں سے ہیں400 ملین بھونگ کیلئے رکھے ہیں

درخواست گزار رئیس منیر کے وکیل رانا وقار نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر عدالت ہدایت دیدے کہ اس بجٹ میں فنڈز رکھے جائیں تو ہمارے لئےبہتر ہو جائے گا

جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کہا کہ دوسری طرف کے جواب کے بغیر ہم کیسے ہدایت دے سکتے ہیں ؟
عدالت نے قراردیا کہ آئیندہ سماعت پر بھونگ انٹر چینج منصوبے کیلئے فنڈز پر وزارت مواصلات تحریری جواب جمع کرائے .

عدالت نے جواب کے لیے ہدایات کرتے ہوئے سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی ہے.