اسلام آباد (ای پی آئی ) وفاقی آئینی عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ ملک میں بچیوں کے اغوا میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی
وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بچوں کے اغوا کے حوالے سے کیس کی سماعت کی ہے، جس میں عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بچوں کے حوالے سے صورتحال بارے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے.
عدالتے نے حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ رپورٹس میں بتایا جائے کہ کتنے بجے بھیک مانگتے ہیں ؟ کتنے بچے مزدوری کرتے ہیں.
بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ حکومت کو بچوں کے حوالے ڈیٹا تیار کرنا چاہیے بچوں سے جبری مشقت کروائی جا رہی ہے8-10 سال کے بچے سرعام مزدوریاں کررہے ہیں جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ بچوں سے بھیک منگوانے والے ٹھیکیدار پیسے کماتے ہیں۔انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ عدالت نے یہ نہیں کہا ان بچوں کو اٹھا لیں 25 سال پہلے کراچی میں مہم چلی تو بچوں کو پولیس نے پکڑ لیا.
جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ مزدوری کرنے والے بچوں کی پاس بھی وجوہات بھی ہوتی ہیں حکومت کو کوئی شیلٹر ہوم بنانے چاہیئیں سیلٹر ہوم میں بچوں کو مختلف کام سکھائیں جائیں.
دوران سماعت درکواست گزار نے کہاکہ زینب الرٹ کے حوالے عدالت ریکارڈ منگوائے تو جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ ابھی تک بچیوں کے اغوا میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی اور بچیوں کے اغوا ختم نہیں ہوئے.
عدالت نے وفاقی صوبائی حکومتوں سے تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے مزید سماعت دو ماہ کیلئے ملتوی کردی


