اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار دے دیں۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو فیملی اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتیں کرانے کا حکم دے دیا، جبکہ بیٹوں سے ٹیلی فون پر باقاعدگی سے بات کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
فیصلے کے مطابق عمران خان کو روزانہ کی بنیاد پراخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ میں کہا ہے کہ بانی کوجیل رولز کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور سپرنٹنڈنٹ یقینی بنائیں کہ بشری بی بی کو بھی قید تنہائی میں نہ رکھیں. عدالت نے لکھا ہے کہ یہ درخواستیں ان ہدایات کے ساتھ نمٹائی جاتی ہیں اورسپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں.
عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ سپریٹنڈنٹ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کروائیں اور اگر جیل حکام عمران خان کو قانون، آئین یا عدالتی حکم کے تحت حاصل کسی سہولت یا ریلیف سے محروم کرتے ہیں تو انہیں اس محرومی کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی.
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ان کی بہن علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ان کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا نے درخواستیں دائر کی تھیں
درخواستوں کی پیروی بیرسٹر سلمان صفدر نے کی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے اس کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد 6 اگست 2026 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جوآج 1 ستمبر 2026 کو صبح 9 بجے سنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ قیدِ تنہائی کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں غیر قانونی طور پر تنہا رکھا گیا ہے
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک اور جیل حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں دیگر قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے، اور انہیں بہتر سہولیات حاصل ہیں.


