اسلام آباد(محمداکرم عابد) ملک میں اربوں کے منصوبوں کی ناقص تعمیرات پر پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی)نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ڈائریکتر جنرل (ڈی جی)فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں کراچی حیدرآباد موٹروے پر دراڑیں، کھڈے اور حادثات سے متعلق پی اے سی میں ایف ڈبلیو او پر سخت سوالات کئے گئے تاہم مذکورہ ادارے کی طرف سے اجلاس میں کوئی موجود نہ تھا،ایم نائن منصوبےکی حالت پر پی اے سی میں اظہار تشویش کیا گیاہے.

بغیر ٹینڈر منصوبوں پر پارلیمانی کمیٹی کے سخت سوالات،سرکاری ادارہ تعمیراتی کمپنی بنا کر ٹھیکے لے سکتا ہے؟ این ایچ اے کا خسارہ 1800 ارب سے تجاوز،ایف ڈبلیو او حکام پی اے سی میں نہیں آتے؟ ارکان کا مشاہدہ،ایم نائن پر سفر خطرناک؟ پی اے سی میں ناقص تعمیرات کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس قائمقام چیئرپرسن شاہدہ اخترعلی کی صدارت میں منعقدہوا۔ وزارت موصلات این ایچ اے کے حسابات کی جانچ پڑتال کی گئی ۔ سیکرٹری مواصلات نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حیدرآباد کراچی میں جو سنگین بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں اس حوالے سے کراچی کے کمانڈر سے بھی بات کی جائے گی۔ بندرگاہوں سے منسلک کراچی شہر میں بیس کلومیٹر موٹروے بنے گی ایم ٹین کے نام سے۔ ایم نائن پر ناقص تعمیرات کو وزارت نے اعتراف کرلیا ہے ۔

پیپلزپارٹی کے حسین طارق نے کہا کہ اب تو اس پر گاڑیاں ہچکولے کھاتی ہیں، خطرناک حادثات ہو چکے ہیں، ٹرک کے علاوہ کراچی حیدرآباد موٹروے پر کوئی گاڑی سفر نہیں کر سکتی، جگہ جگہ کھڈے ہیں، دراڑیں ہیں اور کئی جگہ پر کھائیوں کا منظر ہے۔ سیکرٹری کمیونیکیشن نے اعتراف کیا کہ آپ کی بات درست ہے چیئرمین این ایچ اے نے بھی اعتراف کیا کہ یہ بات درست ہے ،ہم نے ایف ڈبلیو او کے حکام سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ آپ کے کام سے مطمئن نہیں ہیں ۔

شاہد ہ اخترعلی نے کہا کہ نہ شہری ایف ڈبلیو او سے مطمئن ہیں اور نہ ارکان۔ اربوں کھربوں کے منصوبے دیے گئے ہیں

اس دوران سینیٹر افنان اللہ نے ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں بغیر اشتہار بغیر ٹینڈر کے ٹھیکے دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری کمیونیکیشن اس حوالے سے قوم کو ضرور آگاہ کرے ۔سیکریٹری کمیونیکیشن نے پیپرا رول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناگزیرصورت میں اجازت ہے۔انھوں نے پی اے سی کو پیش کش کی کہ متعلقہ شق جو بغیر ٹینڈر یا اشتہار کے ٹھیکے دینے سے متعلق ہے اسے ختم کردیں۔وہ کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے کہ ایف ڈبلیو او کے منصوبوں میں جو بے قاعدگیاں ہیں اس حوالے سے بروقت نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا ۔شاہد اختر علی نے کہا کہ نہ ایف ڈبلیو او کا ڈی جی آتا ہے نہ ایف ڈبلیو او کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ آئندہ اجلاس میں ڈی جی آئیں اور بتائیں حیدرآباد کراچی کے یہ جو موٹروے ہے یہ جو بنایا گیا ہے اس میں جو دراڑیں ہیں یہ کون سا سٹریٹیجک علاقہ تھا۔

حنا ربانی کھر نے انتہائی حساس سوال اٹھایا کہ ایک ادارہ کیسے تعمیراتی کمپنی بنا کر سرکاری ٹھیکے لے سکتا ہے ۔جواب تسلی بخش تو نہیں آ یا۔ حنا ربانی نے بار بار یہ کہا کہ ایک ادارہ سرکاری کمپنی بناتا ہے سرکاری ٹھیکے لیتا ہے اس پر کوئی جواز کوئی ضابطہ قانون کوئی کیا اس طرح کی مثال نظیر پیش کی جا سکتی ہے ۔سیکرٹری کمیونیکیشن اس حوالے سے کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے، البتہ انہوں نے بتایا کہ این ایچ اے کے خسارے اٹھارہ سو ارب سے تجاوز کر گئے ہیں اور گذشتہ سال تین سو اٹھارہ ارب روپے کا نقصان این ایچ اے کو ہو چکا ہے۔

ارکان نے کہا خسارے بڑھتے جا رہے ہیں ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے کہ این ایچ اے ڈوب سکتا ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی الاٹمنٹ ان میں شفافیت لائے اور وہ کنٹریکٹر اور تعمیراتی کمپنی جو ناقص تعمیرات کرتے ہیں ان کو بلیک لسٹ کر دیں، شاہد اختر علی نے واضح کہا ان سے جان چھڑائیں۔ البتہ یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ 285کلومیٹرہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان سی پیک پر سکیورٹی کے مسائل حل کردیئے گئے ہیں۔لکی مروت کے قریب رحمانی خیل کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ بنائی جارہی ہے۔ پوری باڑ اکھاڑ لی گئی تھی۔ مشتبہ افراد رات کی تاریکی میں موٹر وے پر پھیلے ہوتے تھے اب جگہ جگہ تعیناتی کرتے ہوئے موٹرویز پولیس کو جدیداسلحہ دے دیا گیاہے ۔بکتر بند گاڑیوں اور بلٹ پروف گاڑیوں کے ساتھ موٹر وے پولیس ہروقت موجود ہوتی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان ہکلہ سی پیک پررات کا محفوظ سفر ہو گیاہے ۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے موٹر وے کو اس حوالے سے موٹروے پولیس کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ موٹر پولیس کے حسابات پرکوئی آڈٹ پیرا نہیں ہے۔ ارکان نے تصدیق کی کہ موٹرویزپولیس برق رفتاری سے بروقت کام کرتی ہے، شاہدہ اختر علی نے کہا کہ میں خود ماضی میں پارلیمانی سیکرٹری مواصلات کی حیثیت سے موٹروے پولیس کی کارکردگی سے آگاہ ہوں ۔

پیپلزپارٹی کے رکن حسین طارق نے کہا کہ میں نے خود ایک بارضرورت پڑنے پر موٹروے پولیس کو بلوایا، دوتین منٹ میں پہنچ گئے۔ دیگر ارکان نے شاباش دی اور سب نے کہا کہ موٹر وے پولیس مثالی ہے، ضروریات کا حکومت خیال رکھے۔سیکرٹری نے بتایا کہ ضرورت کے مطابق ملک بھر سے مزیددوہزار بھرتیاں کی گئی ہیں ۔ وزارت موصلات کے حسابات کی جانچ پڑتال کی گئی ۔