اسلام آباد(محمداکرم عابد)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ساڑھے اٹھارہ سو ایکڑ پر نیا ایئرپورٹ بنے گا۔، فیزیبلٹی رپورٹ پرکام شروع کردیا گیا ہے ،پشاور ایئرپورٹ کی تعمیرنو کے لئے یہ ایک سال بند رہے گا ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں 1,800 ایکڑ سے زائد رقبہ پر نیا گرین فیلڈ ایئرپورٹ بنے گا۔ فیزیبلٹی رپورٹ پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ہوائی اڈے N-14 ،سی پیک سے منسلک ہوگا۔کمیٹی نے ڈی آئی خان ایئرپورٹ منصوبے پر کام تیز کرنے کی متفقہ سفارش کی۔ پشاور ایئرپورٹ ایک سال کے لیے بند کرنے کی اجازت پر کمیٹی ارکان نے حیرت کا اظہار کیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی دفاع نے پروازوں میں تاخیر کے جرمانے مسافروں کو ادا کرنے کی سفارش کی۔دور دراز علاقوں کے لیے ایئر سروس سبسڈی بحال رکھنے کی سفارش بھی سامنے آئی۔سیکریٹری دفاع نے کمیٹی کو کراچی ایئرپورٹ کے دورے کی دعوت دی تاکہ اراکین خود انتظامات اور صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔اجلاس میں ایوی ایشن ،ہوائی اڈوں ،مسافرجہازوں سے متعلق چار حاضر سروس جنرلز کی شرکت نمایاں رہی۔اجلاس کی صدارت سینیٹر طلحہ محمود نے کی، جبکہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خصوصی طورپر شرکت کی۔ہوائی اڈوں کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور یہ سرپرائز تھا کمیٹی میں اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق چار حاضر سروس جنرل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع میں موجود تھے۔ سیکریٹری دفاع نے کھل کر تمام ایئرپورٹس کی صورتحال کے بارے میں بتایا کہ یہ تباہ کیوں ہوئے کراچی ایئرپورٹ کا انہوں نے کہا کہ یہ ابتر حالت کیوں ہوئی پی آئی اے کی ابتر حالت کیوں ہوئی انہوں نے کہا کہ ایسے ایئرلائن نہیں چاہیے جو اگر نئے روٹس نہیں کھولیں گے تو ہم ان کا پرکشیف یعنی ان کے بزنس والے ان کے روٹس بند کر دیں گے اور کمیٹی نے یہ سفارش کی ہے کہ یہ جو جہاز جو تاخیر ہوتی ہے پروازوں میں اس کے جرمانے مسافروں کو ادا کئے جائیں کمیٹی نے کہا کہ یہ سارا سرکاری خزانے میں جرمانے چلے جاتے ہیں ضروری ہے یہ خزانے کی بجائے مسافروں کو ادا کئے جائیں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے مولانا فضل الرحمن جس فلائٹ میں آ رہے تھے وہ آٹھ گھنٹے لیٹ ہو گئی تھی اور یہ سینیٹر درویش نے سینیٹ کی کمیٹی میں معاملہ اٹھایا سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاو¿س میں ہوا بند ایئرپورٹس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ سرپرائز یہ ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے نئے قابل عمل ایئرپورٹ کے بارے میں انہوں نے تفصیلات سے آگاہ کیا اور انہوں نے کہا کہ بڑے اے ٹی آر جہاز ڈیرہ ایئرپورٹ پر نہیں اتر سکتے ۔گرین فیلڈ ایئرپورٹ کا ایک منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے وزارت دفاع نے اس پر اتفاق کیا ہے ساڑھے اٹھارہ سو ایکڑ اراضی پر یہ ڈیرہ اسماعیل خان کا نیا ایئرپورٹ بنے گا یہ این 14 سے منسلک ہے سی پیک پاک چین اقتصادی راہداری ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان روٹ پر اس سے منسلک ہے اور یہ جو ہے ڈیرہ اسماعیل خان ڈیرہ غازی خان بھکر دریا خان وزیرستان دونوں وزیرستان اور اردگرد کے علاقے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پشاور سے زیادہ ڈیرہ ایئرپورٹ پر آپ کو مسافر ملیں گے اور انہوں نے کہا کہ اس پر کام اگر تیزی سے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہوں نے خط سے ظاہر کیا کہ مستقبل قریب میں ڈیرہ غازی خان کا ایئرپورٹ بند ہو سکتا ہے اور یہ ڈیرہ اسماعیل خان اس کے لئے قابل عمل ایئرپورٹ ہوگا۔ کمیٹی کو سیکریٹری دفاع نے کھل کر یہ کہا کہ ہم چاہتے ہیں آپ ایئرپورٹ کے دورے کریں انہوں نے سینیٹ کی کمیٹی کو کراچی ایئرپورٹ کے دورے کی دعوت دے دی ہے اور کہا کہ آپ خود دیکھیں ماضی میں کیا ہوا پی آئی اے کیوں بیچنا پڑا اس کی کیا وجوہات تھیں بہرحال انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پی آئی اے کی نجکاری ہوئی جو پرائیویٹ کمپنیاں تھیں انہوں نے جہاز خریدنے شروع کر دیئے وہ جاگ گئے ورنہ انہوں نے مثال دی ایئر بلیو نے پانچ سال سے کوئی جہاز ہی نہیں خریدا تھے۔ نجی کمپنیوں کو انتباہ کر دیا گیا ہے کہ اگر آپ نے نئے روٹس سائیڈ روٹ نہ کھولیں چھوٹے شہروں کے لئے تو ان کے منافع روٹس بھی بند کر دیے جائیں گے۔ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ جو پروازوں میں تاخیر ہوتی ہے اس کی نہ صرف نوٹس لیا جائے گا بلکہ جرمانوں کے حوالے سے کمیٹی نے جو سفارش کی ہے مسافروں کے ریلیف کے لئے غوراقدام کیا جائے۔ دور دراز غریب علاقوں کو جہاز جاتے تھے وہاں فضائی سبسڈی بحال کی جائے یہ بلوچستان کے اراکین نے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔کمیٹی وزارت دفاع اور ایوی ایشن کے حکام اس حوالے سے مطمئن تو نہ کر سکے لیکن کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ یہ دور دراز تاکہ زیادہ لوگ سفر کر سکیں وہاں پر سبسڈی کو برقرار رکھا جائے کمیٹی نے ڈیرہ اسماعیل خان ایئرپورٹ کے لئے پشاور ایئرپورٹ پر میٹنگ کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی اس حوالے سے کمیٹی پشاور اور کراچی کا دورہ کرے گی۔کراچی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کراچی ائیرپورٹ کی ابتر حالت کی نشاندہی کی اور کہا کہ واش روم بیٹھنے کی نشستیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، ٹرالیاں غائب ہیں ۔چترال ائیر پورٹ پر خریدے گئے جہاز اتر ہی نہیں سکتے ،کمیٹی نے اس حوالے سے دوروں کا فیصلہ کیا ہے۔