اسلام آباد: سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سندھ میں ایف آئی آر تاخیر سے درج ہونے اور پولیس کے طریقہ کار پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر کو ایک بار پھر ہدایت کی ہے کہ ان کے دائرہ اختیار میں ایف آئی آر میں ’’شکایت کنندہ‘‘ کے بجائے ’’درخواست گزار‘‘ کا لفظ استعمال کیا جائے۔

نظام الدین قتل کیس کی ایف آئی آر سے متعلق اعتراضات پر سکھر کے ڈی آئی جی ناصر آفتاب اور ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس اشتیا ق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران سندھ پولیس کی جانب سے آئی جی سندھ کی ہدایت پر ایف آئی آرز میں تاخیر سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ کئی مقدمات میں شکایت کنندگان خود ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تاخیر سے آتے ہیں۔

اس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ سندھ میں ایف آئی آر درج ہونے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں جو نظام چل رہا ہے، وہ کوئی وانا یا وزیرستان نہیں جہاں لوگ رپورٹ درج کرانے کے لیے نہ آتے ہوں۔ وہاں بھی لوگ اپنے واقعات رپورٹ کراتے ہیں تو پھر سندھ میں لوگ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کیوں نہیں آتے؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ لوگ سڑکیں بند کرنے تک پہنچ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ پولیس کا کام ہے کہ جہاں لوگ سڑک بند کریں، وہاں پہنچ کر شکایت کنندہ کی مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج کرے۔

عدالت نے سوال کیا کہ ایف آئی آر درج کرانے میں رکاوٹ کون بن رہا ہے؟ سندھ میں ہر مقدمہ تاخیر سے کیوں چل رہا ہے؟ روزنامچے میں اندراج کرکے اسے ایف آئی آر میں کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا؟

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں ایف آئی آر تاخیر سے درج ہونے کا ایک کلچر بن گیا ہے اور شکایت کنندہ کی مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے سانگھڑ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ واقعہ سب کے سامنے ہے، جہاں چار افراد قتل ہوئے، لوگ سڑکوں پر آئے لیکن اس کے باوجود ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ سندھ میں ایس ایس پیز اور ڈی آئی جیز کی تعیناتیاں کون کرتا ہے؟ ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب نے بتایا کہ ایس ایس پیز اور ڈی آئی جیز کی تعیناتی وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد ہوتی ہے، جبکہ کسی تعیناتی پر اعتراض ہو تو تین نام بھیجے جاتے ہیں۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، آئی جی سندھ کو خود افسران کی تعیناتی کرنی چاہیے، کیونکہ آئی جی کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سا افسر بہتر کام کرسکتا ہے اور کون درست طریقے سے تفتیش کرسکتا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تفتیشی افسران کو مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے جاتے، جس کے باعث تفتیش کے عمل میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور مقدمات کی تفتیش متاثر ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ میں ایف آئی آر کے اندراج کے طریقہ کار، پولیس کی کارکردگی اور تفتیشی نظام سے متعلق سخت سوالات اٹھاتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام سے وضاحت طلب کرلی۔