تل ابیب : اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عام انتخابات سے محض نو دن قبل ملک کی ایک نئی قومی سلامتی کی ڈاکٹرائن (حکمتِ عملی) جاری کی ہے، جس میں خطے کے اتحادیوں اور حریفوں کی نشاندہی کرنے والا ایک نقشہ بھی شامل ہے۔ یہ دستاویز اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔
بی بی سی کے مطابق اس پالیسی میں روایتی دفاع پر انحصار کرنے کے بجائے روک تھام اور پیشگی فوجی کارروائی کو ترجیح دینے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی خدکات کے پیشِ نظر سرحدوں پر ‘بفر زونز’ کے قیام کو باضابطہ طور پر پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جاری کردہ نقشے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو ’ہیگزاگون الائنس‘ کا حصہ بتایا گیا ہے، جبکہ مصر، پاکستان اور ترکی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ’سنی ڈائمنڈ الائنس‘ کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اردن، سوڈان اور دیگر ممالک کو اس کے دوست کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اس حوالے سے جاری کردہ ایک نقشے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو ’ہیگزاگون الائنس‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ یونان، ایتھوپیا اور انڈیا کے بعض حصوں کو بھی ان کے ساتھ منسلک دکھایا گیا۔ تاہم اس میں جنوب مغربی سوڈان کے ایک وسیع علاقے کو بھی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے لیے دوستانہ یا حامی علاقے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
مگر مصر اور اردن کو اسرائیلی اتحادیوں کے طور پر ظاہر نہیں کیا گیا۔ مصر کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ’سنی ڈائمنڈ الائنس‘ کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ اردن کو اس اتحاد کے دوست کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مکہ اتحاد میں فی الوقت صرف پاکستان، ترکی اور سعودی عرب ہی شامل ہیں۔
مگر اس نقشے کے مطابق سنی ڈائمنڈ الائنس جن ممالک کو اپنے لیے دوستانہ سمجھتا ہے، ان میں سوڈان، ارتریا، یمن، اردن، شام، قطر، بحرین اور کویت شامل ہیں۔جبکہ ایتھوپیا، قبرص، یونان، صومالی لینڈ ہیگزاگون الائنس کے دوستوں میں شمار کیے گئے ہیں۔ نقشے میں دکھایا گیا ہے کہ آذربائیجان کو ہیگزاگون الائنس اور سنی ڈائمنڈ الائنس دونوں ہی اپنے لیے دوستانہ سمجھتے ہیں۔
انتخابات میں نیتن یاہو کے حریف گادی آئزنکوٹ اور سابق وزیرِ اعظم یائیر لپید نے اس نئی پالیسی کو “کھوکھلا” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم 7 اکتوبر کے حملے کو روکنے میں ناکامی کی پردہ پوشی اور انتخابات میں سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی حمایت کی ہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے انتخابات میں مداخلت سے گریز کا اعلان کیا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انڈپینڈنٹ العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور اس کے خلاف کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘مکہ اتحاد’ کے تحت رکن ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا اجتماعی جواب دیا جائے گا، اور یمنی حکومت کی باضابطہ درخواست پر مزید فوجی معاونت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ خزانہ بزالل سموترچ نے اپنے ایک بیان میں یونان کے ساتھ اتحاد کو پاکستان اور ترکی کے مقابلے میں مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حوالے سے بھی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اسرائیل سے مراعات دینے سے گریز کرنے پر زور دیا۔
انتہا بائیں بازو کے خیالات کے حامل اسرائیلی وزیر خزانہ بزالل سموترچ کا کہنا ہے کہ یونان کے ساتھ اتحاد کو ’پاکستان، ترکی اور ہمارے مخالف ممالک کے خلاف مضبوط بنایا جانا چاہیے۔‘پیر کے روز ایک انٹرویو میں انھوں نے انقرہ کے مقابلے فوجی برتری برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ترکی کے پاس ایک بہت، بہت بڑی بحریہ ہے اور ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقی بحیرۂ روم میں ایک سٹریٹیجک توازن موجود ہے۔
سموترچ نے سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلمان سے اسرائیل کے لیے ‘احترام’ کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ اسرائیل کو محمد بن سلمان کو اس وقت تک کچھ نہیں دینا چاہیے جب تک وہ بدلے میں ہمیں کچھ نہ دیں۔میرے خیال میں ہم انھیں مراعات دے رہے ہیں۔ میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، لیکن میرا ماننا ہے کہ یہ ایک غلطی ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ محمد بن سلمان بار بار ہمارا سامنا کریں، ہمیں حقارت کا نشانہ بنائیں اور پھر بعد میں یہ توقع رکھیں کہ ہم انھیں مسلسل مراعات دیتے رہیں۔‘


