اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ نے قتل کیس میں نامزد ملزمان سابق رکن اسمبلی شہر یار خان شر اور ان کے بیٹے جہانگیر خان شر کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائی کورٹ کا عبوری ضمانتیں خارج کرنے کافیصلہ معطل کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 5،5لاکھ روپے کے عدالتی مچلکے جمع کروانے کاحکم دیا ہے۔

عدالت نے ملزمان کو ہدایت کی کہ وہ تفتیشی کے ساتھ رابطہ کرکے تفتیش میں شامل ہوں اور ٹرائل کورٹ میں بھی پیش ہوں۔ عدالت نے سندھ حکومت،شکایت کندہ اور مقتول کے لواحقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 27اپریل تک جواب بھی طلب کرلیا۔

دوران سماعت دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ الیکشن میں مخالفت ہوتی ہے تاہم یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ آئندہ سماعت پر لواحقین بھی عدالت آئیں، قانونی لواحقین کو آناچاہیئے ، قصاص اور دیت میں قانونی لواحقین آتے ہیں۔ جب کیس لگتا ہے تو سرکاری وکیل کو موجود ہونا چاہیئے۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل 2رکنی بینچ نے سابق رکن سندھ اسمبلی شہریارخان شر اوران کے صاحبزادے جہانگیر خان شر کی جانب سے قتل کیس میں سند ھ ہائی کورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کے معاملہ پر رکن سندھ اسمبلی جام مہتاب حسین ڈاہر، حکومت سندھ اور دیگر کے خلاف دائر درخواستوں پرسماعت کی۔ درخواست گزار اپنے وکیل سینیٹر فاروق حمید نائیک کے ہمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ مدعاعلیہان کی جانب سے عبداللہ کھوڑو بطور وکیل پیش ہوئے۔

یاد رہے کہ جام مہتاب حسین ڈاہر پر 16مارچ2025کو ہونے والے حملے میں ظفر نامی شخص قتل ہوا تھا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

فاروق نائیک کاکہناتھا کہ میں درخواست گزار کی جانب سے پیش ہورہاہوں، سندھ ہائی کورٹ نے عبوری ضمانتیں خارج کیں۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ کیادونوں ملزمان عدالت میں موجودہیں۔ اس پر فاروق نائیک کاکہناتھا کہ موجود ہیں۔ جسٹس عرفان سعادت خان کاکہناتھا کہ سرکار کونوٹس جاری کرنا پڑے گا،پراسیکیوٹر جنرل سندھ کونوٹس جاری کرنا پڑے گا۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہنا تھا کہ سرکار کونوٹس جاری کریں گے تووہ پرائیویٹ وکیل کو معاونت کی اجازت دے گی۔

فاروق نائیک کاکہناتھا کہ سیاسی مخالفت کی وجہ سے مقدمہ میں باپ بیٹے کوپھنسایاگیاہے۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ الیکشن میں مخالفت ہوتی ہے تاہم یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ فاروق نائیک کاکہناتھا کہ بدنیتی سے مجھے مقدمہ میں ملوث کیاگیا ہے۔

جسٹس عرفان سعادت کاکہناتھا کہ کیا جرم میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد ہوا۔ اس پر فاروق نائیک کاکہناتھا کہ برآمد ہوا۔ اس پر جسٹس عرفان سعادت خان کہناتھا کہ اگرہتھیار برآمدہوئے ہیں توپھر ملزمان کو تفتیش میں شامل ہونا پڑے گا۔ فاروق نائیک کاکہناتھا کہ حتمی چالان جمع ہوگیا ہے اور ٹرائل شرو ہوگیا ہے، شہریار شرکانام چالان سے نکال دیا گیا ہے جبکہ جہانگیر شرکانام چالان میں ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ سرکار کونوٹس جاری کرتے ہیں۔ فاروق نائیک کاکہناتھا کہ 16مارچ2025کا واقعہ ہے،اواقعہ کے 24گھنٹے بعد 17مارچ کو ایف آئی آردرج ہوئی۔ مدعاعلیہ کے وکیل کاکہناتھا کہ جام مہتاب ڈاہر مقتول ظفر کاکزن ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ قانونی لواحقین کی جانب سے کیس درج کروایا جانا چایئے تھا اور وکیل ہونا چاہیئے تھا۔

جسٹس عرفان سعادت نے استفسار کیا کہ کہ مقتول کی عمر کیاتھی۔ اس پر وکیل نے بتایا کہ 35سال تھی۔ اس پر جسٹس عرفان سعادت کاکہناتھا کہ مقتول نے شادی کی ہوگی، اُس کے بچے ہوں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ آئندہ سماعت پر لواحقین بھی عدالت آئیں، قانونی لواحقین کوآناچاہیئے ، قصاص اوردیت میں قانونی لواحقین آتے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ ریاست کیوں نہیں آئی۔ اس پر وکیل کاکہناتھا کہ یہ کیس کی پہلی سماعت ہے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ جب کیس لگتا ہے تو سرکاری وکیل کوموجود ہونا چاہیئے۔ جسٹس عرفان سعادت خان کامدعاعلیہان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ ہم کچھ نہیں کررہے ، صرف نوٹس کررہے ہیں۔ بینچ نے دونوں ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں پانچ، پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کاحکم دے دیا۔ جبکہ عدالت نے ملزمان کو ہدایت کی کہ وہ تفتیشی کے ساتھ رابطہ کرکے تفتیش میں شامل ہوں اور ٹرائل کورٹ میں بھی پیش ہوں۔ اس دوران جسٹس عرفان سعادت خان نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان عدالت سے باہر چلے گئے ہیں، ابھی کیس کی سماعت ختم نہیں ہوئی تو کیسے ملزمان عدالت سے باہر چلے گئے، کیوں نہ اُن کی عبوری ضمانتیں خارج کردی جائیں، کیس کی سماعت ختم ہونے تک ملزمان کو روسٹرم پر موجود رہناچاہیئے۔ فاروق نائیک کاکہنا تھا کہ دونوں ملزمان کمرہ عدالت میں ہی موجود ہیں۔

اس پر کمرہ عدالت میں ہی موجود دونوں ملزمان واپس روسٹرم پر آگئے اور عدالت سے معذرت کی جسے عدالت نے قبول کرلیا۔ فاروق نائیک کاکہناتھا کہ ہائی کورٹ نے شہر یارشرکانام کالم دوسے نکال کر کالم ایک میں ڈالنے کاحکم دیا ہماری استدعا ہے کہ واپس کالم دو میں شامل کیاجائے۔

جسٹس جمال مندوخیل کاکہنا تھا کہ ضمانتی مچلکے جع کروانے کامقصد ہے کہ ملزمان ہرسماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔ بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کی رضامندی سے کیس کی مزید سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی۔